کوئٹہ ( نامہ نگار)
بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہے کہ ماہ گل بلوچ کا رات کی تاریکی میں اغوا، بہیمانہ تشدد، آنکھیں پھوڑ کر قتل اور پھر ان کی مسخ لاش کا تربت یونیورسٹی کے عقب میں پھینکا جانا کوئی اچانک یا اتفاقیہ رونما ہونے والا جرم نہیں بلکہ یہ بلوچ نوجوانوں کے خلاف برسوں سے آزمائے جانے والے ریاستی جنگی جرائم یعنی اغوا، اذیت، قتل اور مسخ لاشیں پھینکنے کو بلوچ خواتین تک وسعت دینے کا خطرناک آغاز ہے۔ بلوچ قوم کو اسے ایک ٹیسٹ کیس سمجھنا ہوگا کیونکہ ریاست دیکھنا چاہتی ہے کہ بلوچ بیٹوں کے بعد اب بلوچ بیٹیوں کو بھی گھروں سے اٹھاکر تشدد سے مسخ لاشیں فوجی چوکیوں کے سائے میں پھینکی جائیں تو ممکنہ رد عمل کیا ہوگی؟ اگر آج اس جرم کے خلاف بھرپور اجتماعی مزاحمت نہ ہوئی تو یہ خاموشی ریاست اور اس کے قاتل فوج کے لیے اگلے اغوا، اگلے قتل اور اگلی مسخ لاش کے لیے راہ ہموار کرے گی۔انھوں نے کہا ماہ گل بلوچ کے اغوا اور قتل کے دستیاب شواہد ان مسلح جتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جنہیں بلوچستان میں عرفِ عام میں " ڈیتھ اسکواڈ " کہا جاتا ہے۔ یہ عام جرائم پیشہ گروہ نہیں بلکہ پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے باقاعدہ حصہ ہیں، جنھیں بلوچ قومی تحریک کو کچلنے، سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کو دہشت زدہ کرنے اور ریاستی جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بدلے میں انھیں تحفظ اور سماج میں لوٹ مار، بھتہ خوری اور دیگر جرائم کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔ اس لیے ماہ گل بلوچ کے قتل کو صرف ایک ڈیتھ اسکواڈ کا جرم قرار دے کر ریاست و فوج کو بری الذمہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ حقیقت میں ریاستی فوج نے پراکسی قاتلوں کے شکل میں یہ کربناک جنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
چیئرمین نے کہا کہ یہ جرم اس لیے مزید ہولناک ہے کہ ماہ گل بلوچ کی لاش ایسے علاقے میں پھینکی گئی جہاں متعدد فوجی چوکیاں، سکیورٹی تنصیبات اور نگرانی کا وسیع نظام موجود ہے۔ ایک طرف ریاست بلوچستان کے ہر راستے، گاؤں اور چھوٹی بڑی آبادیاں فوجی حصار میں ہیں، روزمرہ معمول کے سرگرمیوں پر بھی سخت نگرانی کی جاتی ہے، دوسری طرف اسی حصار میں قاتل ایک بلوچ خاتون کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بناتے، قتل کرتے اور اس کی مسخ لاش پھینک کر بلاخوف واپس چلے جاتے ہیں۔ اس واقعے کو سکیورٹی کی ناکامی کہہ کر بلوچ قوم کو دھوکا نہیں دیا جاسکتا کیونکہ قاتل اپنا نشان چھوڑ چکا ہے، بلوچ قوم کو بخوبی اس کا اندازہ ہے۔
بلکہ اس ریاستی نظام کا نتیجہ ہے جس میں قاتل اور محافظ ایک ہی طاقت کے مختلف چہرے بن چکے ہیں۔ ماہ گل بلوچ کے قتل، ان پر کیے گئے تشدد اور لاش پھینکنے کے تمام حالات کی آزادانہ فرانزک، طبی اور عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں، شواہد محفوظ کیے جائیں اور ذمہ دار افراد کے ساتھ ان کے ریاستی سرپرستوں کو بھی بے نقاب کیا جائے۔انھوں نے کہا نیشنل پارٹی سمیت نام نہاد قوم پرست پارلیمانی جماعتیں چند رسمی جملے ادا کرکے اس جرم سے بری الذمہ نہیں ہوسکتیں۔ ماہ گل بلوچ کے قتل کو محض " امن و امان کی خراب صورتِ حال" کہنا ریاست کو بری الذمہ قرار دینے کے کوششوں کا تسلسل ہے جسے نیشنل پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں سیاسی جواز، قانونی سہولت اور عملی معاونت فراہم کی۔ جس جماعت نے فوجی آپریشنوں کے لیے راہ ہموار کی، ریاستی کارروائیوں کے حق میں قانون سازی کی اور جس سے وابستہ متعدد افراد آج بھی مختلف سطحوں پر اسی فوج کی دست و بازو بنے ہوئے ہیں، اس کی موجودہ سطحی لفاظی، مزمت نہیں بلکہ سیاسی شراکتِ جرم ہے۔ کیچ کو اپنا سیاسی مرکز کہنے والوں سے بلوچ قوم یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ اگر وہ ایک بلوچ خاتون کے اغوا، بہیمانہ تشدد اور مسخ لاش پر بھی عوام کو متحرک نہیں کرسکتے تو ان کی قوم پرستی، نمائندگی اور سیاست آخر کس کام کی ہے؟کیا بلوچ قوم صرف اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی مسخ لاشیں اٹھانے کے لیے زندہ ہے؟ گوکہ ہم اس ظلم کو فی الفور طاقت سے نہیں روک سکتے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم خاموش رہیں، قاتلوں کے نام چھپائیں یا ان کے سیاسی سہولت کاروں کو مہلت دیتے رہیں۔ ہماری آواز، قلم، احتجاج، ہڑتال، عوامی اجتماع اور منظم سیاسی مزاحمت وہ قوت ہے جس سے ریاست خائف ہے اور اسی کا نام قومی تحریک ہے اور تحریک کو کچلنے کے لئے پاکستان ایسی جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ بلوچ معاشرے، سیاسی کارکنوں، طلبہ، خواتین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری کو ماہ گل بلوچ کے لیے انصاف اور بلوچ خواتین کے تحفظ کی خاطر فوری، متحد اور مؤثر آواز اٹھانی ہوگی۔ ماہ گل بلوچ کی لاش اٹھاکر خاموشی سے گھروں کو لوٹ جانا اس جرم کو آخری جرم نہیں بنائے گا بلکہ صرف منظم اور مسلسل مزاحمت ہی ریاست کو یہ پیغام دے سکتی ہے کہ بلوچ
اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا خون خاموشی سے قبول نہیں کریں گے۔
