شہید عبدالباقی عرف لونگ کی زندگی ایک ایسے انسان کی داستان تھی جس نے برسوں تک ایک اجتماعی مقصد اور اپنی تنظیمی ذمہ داریوں کے ساتھ وابستگی قائم رکھی۔ 2013 سے وہ اس جُہد کا حصہ بنا اور رفتہ رفتہ اپنی محنت، ذمہ داری اور صلاحیتوں کی بنیاد پر تنظیم کے اہم شہری نیٹ ورک میں شمار ہونے لگا۔
اس کی سرگرمیاں صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں رہیں۔ ضرورت کے مطابق وہ بولان، ناگاؤ اور دیگر مختلف علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیتا رہا۔ شہری نیٹ ورک میں رہتے ہوئے اس نے تنظیمی امور، رابطوں اور مختلف ذمہ داریوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پھر 2015 اس کی زندگی میں ایک سخت آزمائش بن کر آیا۔ ، علاقائی دلالوں نے اسے بلیک میل اور شدید دباؤ کا نشانہ بنایا اور اُسے سلنڈر کردیا، جس کے باعث وہ کچھ عرصے کے لیے جُہد سے دور ہو کر شہر منتقل ہوا۔ مگر فاصلے ہمیشہ انسان کے دل میں بسے ہوئے جذبے کو ختم نہیں کر سکتے۔
اس کے اندر وطن کا درد اور قومی جذبہ زندہ تھا۔
کچھ عرصے بعد اس کے ضمیر نے اسے دوبارہ اپنے پرانے عہد کی طرف کھینچ لیا۔ اس نے اپنے تنظیمی ساتھیوں سے رابطہ کیا اور باقاعدہ طور پر ایک مرتبہ پھر جُہد کا حصہ بن گیا۔ یہ واپسی محض کسی فرد کی واپسی نہیں تھی، بلکہ اپنے عہد، اپنے ساتھیوں اور اپنے مقصد کی طرف واپسی تھی۔
واپسی کے بعد اس نے پہلے سے زیادہ ذمہ داری اور سرگرمی کے ساتھ کام جاری رکھا۔ وہ مختلف محاذوں اور تنظیمی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ جب اُستاد اسلم بولان کے دورے پر آتے تو عبدالباقی عرف لونگ اُن کے خصوصی اسکواڈ میں شامل ہوتا اُس کے لئے روڈوں کو کلیر کرتا کیمپ مورچے پہلے کلیر کرتے بعد میں اُستاد وہاں جاتے یا وہاں سے گزرتے ۔
بعد کے دنوں میں اس نے مزید اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اور، جُہد کے دوران میر عبدالنبی کے کیمپ کا کمانڈر بھی رہا۔ یہ ذمہ داریاں اس بات کی علامت تھیں کہ وہ محض ایک کارکن نہیں، بلکہ تجربہ، اعتماد اور مسلسل سرگرمی رکھنے والا ایک اہم کردار تھا۔
مگر اس کی داستان کا آخری باب ایک تلخ دھوکے کے ساتھ لکھا گیا۔
بعد میں علاقائی دلالوں نے اسے ایک ملاقات کے بہانے بلایا۔ اعتماد کے نام پر اسے دھوکے سے روبدار کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں اسے شہید کر دیا گیا۔
اس کی شہادت ایک فرد کا نقصان نہیں تھی۔
وہ برسوں کے تجربے کا حامل تھا، تنظیمی امور سے واقف تھا اور مختلف ذمہ داریوں میں سرگرم رہا تھا۔ اس کے جانے سے تنظیم اور اس کے ساتھیوں کو ایک ایسا نقصان پہنچا جس کا خلا آسانی سے پُر نہیں ہو سکتا۔
2013 سے شروع ہونے والا اس کا سفر،
2015 کی سخت آزمائشوں سے گزرا،
پھر اپنے ضمیر اور قومی جذبے کی آواز پر واپس آیا،
اور آخر تک اپنے عہد اور ذمہ داریوں سے وابستہ رہا۔
عبدالباقی ایک نام تھا، مگر لونگ ایک کردار بن گیا۔
ایک ایسا کردار جسے حالات کچھ وقت کے لیے دور تو لے گئے، مگر اس کے دل سے اپنے وطن اور اپنے مقصد کی محبت نہ نکال سکے۔
شہید عبدالباقی عرف لونگ — تمہاری جدوجہد، تمہاری وفاداری اور تمہارا سفر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
