سوراب مسلح افراد کے ہاتھوں سول جج علی بیگ دہوار اغوا گاڑی بھی لے گئے




قلات ( نامہ نگار  )  قلات و سوراب کے درمیانی علاقہ سے سینئر سول جج حب علی بیگ دہوار  گزشتہ روز اغوا ہوگئے ،بتایا جارہاہے کہ مسلح افراد نے انھیں روکا اور شناخت کے بعد اغوا کرکے گاڑی سمیت لے گئے ۔خاندانی ذرائع کے مطابق  وہ گزشتہ روز مورخہ 06.09.2026 کو سوراب اور قلات کے درمیان گھر جاتے ہوئے سرکاری گاڑی سمیت غائب ہوا ہے ،دعاؤں کی درخواست ہے۔

آپ کو علم ہے انکے بھائی غلام قادر دہوار کو تین سال قبل قابض پاکستانی فورسز نے چار دیگر افراد کے ہمراہ جبری گمشدگی کے بعد جعلی مقابلے میں مغربی بلوچستان سے منسلک علاقہ زامران کے حدود میں فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا اور نعشیں مغربی بلوچستان کی حدود میں پھینک دی تھی ،خوش قسمتی سے چار میں سے ایک جبری لاپتہ میر خان محمد شاہوانی نامی بلوچ نیشنل موومنٹ کے رکن شدید زخمی ہوگئے تھے جنھیں بیہوشی کی حالت میں ہسپتال پہنچادیا گیا تھا ،ہوش میں آنے  کے بعد ہوش میں آنے کے بعد انھوں نے قابض پاکستانی فورسز کی داستان بیان کی تھی کہ انھیں کس طرح جبری گمشدگی کا نشانہ بناکر بعد ازاں ازیت گاہ سے نکال کر یہاں لاکر فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا ۔جہاں وہ زندہ بچ گئے تھے  ،ان کے مطابق وہ شدید زخمی ہوگئے تو تینوں نعشوں کے بیچ اپنے آپ کو چھپا یا تھا جس کی وجہ سے آخری گولیوں انھیں نہیں لگیں جس کی وجہ سے انھیں نئی زندگی مل گئی ۔

غیر مصدقہ اطلاعات مطابق سول جج بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں ۔


Post a Comment

Previous Post Next Post