سلیمان سے صدام تک کا سفر — جدوجہد، وفا اور قربانی کی داستان۔تحریر قوم بلوچ



زندگی شاید صرف سانس لینے کا نام نہیں ہوتی۔ بعض زندگیاں اپنے گزر جانے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتیں، کیونکہ انسان کا وجود صرف جسم سے تشکیل نہیں پاتا۔ اس کے خواب، اس کے دکھ، اس کی محبتیں، اس کے عہد اور وہ قربانیاں جو وہ دوسروں کے لیے دیتا ہے، اسے وقت کی حدود سے آگے لے جاتی ہیں۔ کچھ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کے جانے کے بعد بھی ان کی یاد لوگوں کے دلوں میں ایک زندہ حقیقت کی طرح سانس لیتی رہتی ہے۔

شہید سلیمان عرف صدام بھی شاید اُن ہی لوگوں میں سے ایک تھا، جس کے لیے زندگی اپنی ذات کی آسائش کا نام نہیں تھی۔ اس کے اندر ایک ایسا درد تھا جو صرف اس کا ذاتی درد نہیں تھا۔ وہ اپنے وطن کے دکھ کو محسوس کرتا تھا، اپنے لوگوں کی دربدری کو دیکھتا تھا، اور اُن چہروں میں چھپے ہوئے غم کو اپنے دل میں جگہ دیتا تھا جن کی زندگیاں محرومیوں اور مشکلات کے درمیان گزر رہی تھیں۔

شاید یہی احساس تھا جس نے سلیمان کو صدام بنایا۔

اس کے سفر میں صرف امیدیں نہیں تھیں، آزمائشیں بھی تھیں۔ اس نے ایک سال اور پندرہ دن سخت قید اور اذیت کے ماحول میں گزارے۔ وہ دن شاید زندگی کے عام دن نہیں تھے؛ وہ لمحے تھے جن میں انسان کو اس کی جسمانی طاقت سے زیادہ اس کے ضمیر کے ساتھ آزمایا جاتا ہے۔ زندگی کو اس پر تنگ کر دیا گیا، حالات کو اس کے لیے ایک قید کی طرح بنا دیا گیا، اور ایسے مرحلے بھی آئے جب مجبوریوں کے بوجھ تلے اسے ایسی سختیوں کا سامنا کرنا پڑا جن کا تصور بھی آسان نہیں۔

مگر انسان کی اصل شکست جسم کی شکست نہیں ہوتی۔

اصل شکست اُس دن ہوتی ہے جب انسان اپنا ضمیر بیچ دے، اپنے اصولوں سے منہ موڑ لے اور اپنے اندر کے سچ کو خاموش کر دے۔

صدام نے اپنا ضمیر نہیں بیچا۔

اس کے جسم کو تھکایا جا سکتا تھا، زندگی کو اس کے لیے دشوار بنایا جا سکتا تھا، مگر اُس کے اندر بسنے والے احساس کو شکست دینا آسان نہیں تھا۔ اس کے دل میں وطن کا درد زندہ رہا۔ اپنے لوگوں کی دربدری، ان کے دکھ اور ان کی بے بسی اُس کے لیے محض خبریں نہیں تھیں؛ وہ ایک ایسا زخم تھیں جسے وہ اپنے وجود میں محسوس کرتا تھا۔

آزمائشوں کے بعد اس کا سفر رکا نہیں۔

وہ دوبارہ اُس راستے کی طرف لوٹا جسے اس نے اپنی زندگی کا مقصد بنایا تھا۔ پھر اس نے پہاڑی محاذوں کا رخ کیا، جہاں زندگی کی آسائشوں سے زیادہ مشقت تھی اور خاموش راتوں میں بھی ذمہ داریوں کا سفر جاری رہتا تھا۔

بولان، ناگاؤ، گزگ، ہربوئی اور ماران کے مختلف پہاڑی محاذ اس کی جدوجہد کے گواہ رہے۔ وہ ایک جگہ ٹھہر جانے والا شخص نہیں تھا۔ جہاں ضرورت تھی، وہاں پہنچنا؛ جہاں ذمہ داری تھی، اسے نبھانا؛ اور جہاں تنظیمی کام درکار تھا، وہاں اپنی توانائی صرف کر دینا، یہی اس کے کردار کی پہچان تھی۔

اس نے مختلف محاذوں پر اپنی تنظیمی ذمہ داریاں انجام دیں۔ دن اور رات کے فرق کو کم کرتے ہوئے، مشقت کو اپنا ساتھی بناتے ہوئے، اس نے تنظیمی کام کو آگے بڑھانے کے لیے خود کو وقف کیے رکھا۔ اس کی زندگی میں شاید آرام کے لمحے کم اور ذمہ داریوں کے دن زیادہ تھے۔

وہ جانتا تھا کہ کسی اجتماعی مقصد کی راہ صرف جذبات سے طے نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مسلسل محنت، صبر، وفاداری اور قربانی درکار ہوتی ہے۔

اور صدام نے یہی سب اپنی زندگی سے ثابت کیا۔

مگر بعض داستانوں کے اختتام میں بھی دھوکے کی ایک تلخ لکیر موجود ہوتی ہے۔

بعد میں، ، علاقائی دلالوں نے ایک ملاقات کے نام پر دھوکہ دیا۔ اُس وقت بھی صدام اپنی تنظیمی ذمہ داریاں ادا کر رہا تھا، اپنے کام میں مصروف تھا اور جدوجہد کے سفر سے وابستہ تھا۔ مگر دھوکے کے اُس لمحے نے ایک ایسے انسان کو چھین لیا جس نے اپنی زندگی کے بہترین سال مشقت، وفاداری اور مقصد کے نام کیے تھے۔

وہ بزدلی سے لے جایا گیا اور پھر شہید کر دیا گیا۔

مگر کیا کسی انسان کو جسمانی طور پر ختم کر دینا اس کی داستان کو ختم کر دیتا ہے؟

شاید نہیں۔

کیونکہ صدام کی زندگی صرف اُس آخری لمحے کی کہانی نہیں۔ اس کی زندگی ایک سال اور پندرہ دن کی سخت آزمائشوں کی داستان بھی ہے؛ وہ داستان جس میں اسے توڑنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ اپنے ضمیر کے ساتھ کھڑا رہا۔ یہ بولان کے پہاڑوں کی داستان بھی ہے، ناگاؤ کی خاموش فضاؤں کی بھی، گزگ اور ہربوئی کے دشوار راستوں کی بھی، اور ماران کے اُن محاذوں کی بھی جہاں اس نے اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا۔

اس کی داستان اُن دنوں کی بھی ہے جب اس نے اپنے آرام کو قربان کر کے تنظیمی سرگرمیوں کو ترجیح دی۔

اور یہ داستان اُس انسان کی ہے جس نے اپنے لیے جینے کے بجائے ایک مقصد کے لیے خود کو وقف کر دیا۔

شہید سلیمان عرف صدام ہمیں شاید یہی سبق دے گیا کہ زندگی کی طوالت سے زیادہ اس کا مقصد اہم ہوتا ہے۔ کچھ زندگیاں برسوں میں بھی اپنی پہچان نہیں بنا پاتیں، اور کچھ کردار آزمائشوں، مشقتوں اور قربانیوں کے درمیان ایک ایسی داستان لکھ جاتے ہیں جسے وقت آسانی سے فراموش نہیں کر سکتا۔

اسے قید کی سختیوں نے نہیں خریدا۔

اسے مشکلات نے نہیں جھکایا۔

اس کے سامنے زندگی کو دشوار بنایا گیا، مگر اس نے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔

اس نے اپنے لوگوں کا درد دیکھا اور اسے اپنا درد بنایا۔

اس نے پہاڑوں کے دشوار راستے اختیار کیے اور اپنی توانائی تنظیمی ذمہ داریوں کے لیے وقف کر دی۔

اور آخرکار وہ دنیا سے چلا گیا، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا سوال اور ایک ایسی یاد چھوڑ گیا جو زندہ لوگوں کے ضمیر سے مخاطب رہے گی۔

سلیمان ایک نام تھا،
صدام ایک کردار بن گیا۔

ایک ایسا کردار جس کی جرات آزمائشوں میں نمایاں ہوئی،
جس کی سخت جانی مشقتوں میں پہچانی گئی،
جس کی وفاداری ذمہ داریوں میں ظاہر ہوئی،
اور جس کی زندگی ایک مقصد کے لیے وقف رہی۔

وہ آج ہمارے درمیان نہیں، مگر اس کا سفر ختم نہیں ہوا۔

وہ بولان کے پہاڑوں کی خاموشی میں یاد رکھا جائے گا،
وہ ناگاؤ اور گزگ کے دشوار راستوں میں یاد آئے گا،
وہ ہربوئی اور ماران کے محاذوں کی داستانوں میں زندہ رہے گا۔

اور اُن سب دلوں میں زندہ رہے گا
جو جانتے ہیں کہ بعض لوگ مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔

وہ یاد بن جاتے ہیں۔
وہ عہد بن جاتے ہیں۔
وہ ایک ایسی داستان بن جاتے ہیں
جسے وقت مٹا نہیں سکتا۔

شہید سلیمان عرف صدام — تم چلے گئے، مگر تمہاری وفا، تمہاری مشقت اور تمہاری داستان زندہ رہے گی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post