مستونگ ( نامہ نگار)
مستونگ میں کیسکو کے مظالم بدامنی و چوری ڈکیتی پانی کی عدم ترسیل، مستونگ شہر کے اہم نواحی علاقوں کے بڑی آبادیوں کاریزنوتھ کاریزسور، شیران آب، فیض آباد، سمیت اہم راستوں کی بندش کھڈکوچہ میں درختوں کی کٹائی سمیت دیگر اہم بنیادی عوامی مسائل اور حکومت اور حکومتی اداروں کی بےحسی و نا اہلی کے خلاف نیشنل پارٹی کے زیراہتمام سلطان شہید چوک پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرہ سے نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر میر سکندر خان ملازئی، ورکنگ کمیٹی کے رکن آغا فاروق شاہ، حاجی نذیر احمد سرپرہ ظفر بلوچ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی نظر جان ابابکی، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر حافظ خالدالرحمان شاہوانی نزیراحمد نورزئی امداد بلوچ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔۔۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مستونگ میں کیسکو کی جانب سے عوام پر ظلم کی انتہا کردی ہے صوبہ کے دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی 20 22 گھنٹے جبکہ مستونگ میں بجلی صرف 4 گھنٹے فراہم کی جارہی ہیں، کیسکو کی دوغلی پالیسی و ظلم و زیادتی برداشت سے باہر ہوگئے ہیں، انھوں کہاکہ مستونگ شہر و گردونواح میں چوری ڈکیتی راہزنی عروج پر ہے نہ تاجر محفوظ ہیں اور نہ ہی شہریوں کی جان ومال محفوظ ہیں، پولیس ڈر و خوف سے تھانہ تک محدود ہوگئی ہیں اور اپنے فرائض انجام دینے میں بھری طرح ناکام ہوچکی ہیں، مقررین نے کہاکہ مستونگ شہر کے بڑے آبادیوں کے لنک روڈ میجر چوک، فیض آباد روڈ کالج روڈ مسلسل بند کی گئی ہیں شہری کچہ راستوں سے گزرنے اور چوروں و راہزنوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں، انھوں کہاکہ کھڈکوچہ کے زرعی باغات کو بدامنی کے بہانے کاٹنا ظلم کی انتہا ہے زمینداروں نے زندگی لگا دی درخت لگانے پر مگر حکومت کاٹنے جیسے ظلم کررہا ہیں زراعت ختم ہونے سے مزید بےروزگاری اور بدامنی میں اضافہ ہو گا، ریاست کی غلط پالیسیوں ناانصافیوں ظلم و زیادتی و بربریت مسلسل آپریشنز نوجوانوں کا لاپتہ کرنے مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کی ہی وجہ سے آج نوجوان پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، حکمران ہوش کے ناخن لیں اور ظلم و زیادتی کا سلسلہ بند کریں، مقررین نے کہاکہ مستونگ مسائلستان بنا ہوا ہے ایم پی اےاور ایم این اے الیکشن کے بعد سے لاپتہ ہوگئے ہیں انہیں مستونگ کے عوام کے مسائل سے کوئی سر و کار نہیں اور اپنے من پسند آفیسران کو سالوں سے عوام پر مسلط کرکے بٹھائے ہیں، سالوں سے بیٹھے شاہی آفیسران کا تبادلہ کرکے اہل آفیسران تعینات کئے جائے۔۔۔شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال تین مہینہ سے سربراہ سے محروم ہے اور ہسپتال ایک لڑکے کے حوالے کیاگیا ہے جس کی وجہ سے مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے شہید نواب غوث بخش رئیسانی ہسپتال مستونگ کے عوام کا اثاثہ ہے اسے کسی کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے،انھوں نے کہاکہ مستونگ میں پینے کے پانی پر اربوں روپے خرچ ہوئے مگر شہریوں کو مہینہ میں ایک دو بار پانی فراہم شرمناک ہیں، تحقیقات کی جائے،مقررین نے کہاکہ حکمرمت نے بدامنی کا بہانہ بنا کر دو سالوں سے مستونگ میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کی ہے ہم سوال کرتے ہیکہ ڈیٹا کی بندش سے کیا بدامنی ختم ہوا۔۔۔؟ انھوں نے کہاکہ ڈیٹا کی بندش سے طلباء تاجروں اور صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے انھوں نے حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیاکہ مستونگ میں کیسکو کی مظالم بند اور بجلی کی 20 گھنٹے فراہمی، بدامنی پھیلانے والے عناصر کی پشت پناہی بند اور چوروں و راہزنوں ڈکیتوں کے خلاف کاروائی اور عوام کی جان ومال محفوظ بنانے، موبائل فون انٹرنیٹ سروس بحال، باغات کی کٹائی بند ، اور بند راستوں کو فوری بحال کریں اہل آفیسران کی تعیناتی تقینی بنائے جائے، مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے پر احتجاجی تحریک میں مزید سختی لائی جائے گی۔
