کوئٹہ ( نامہ نگار ،ویب ڈیسک ) بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے والپٹ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کے بعد کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بیلہ کے قریب شیشہ ہوٹل کے مقام پر شاہراہ پر ہر قسم کی ٹریفک کی آمدورفت روک دی گئی ہے، شاہراہ کی بندش کے باعث مختلف مقامات پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی۔
واضح رہے کہ آج صبح لسبیلہ کے علاقے والپٹ میں پاکستانی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملے کے حوالے سے بلوچ لبریشن آرمی نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر مقبوضہ بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں لیتھیم نکالنے والی ایک کمپنی کی سائٹ پر مسلح افراد نے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں مائننگ سائٹ پر موجود مشینری اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے لیتھیم نکالنے والی کمپنی کی سائٹ کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود قیمتی مائننگ مشینری اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کردیا۔ حملہ آوروں کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کے باعث کمپنی کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔
ہامون ماشکیل تقریباً 5 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ایک وسیع اور منفرد علاقہ ہے۔ یہ خطہ نہ صرف قدرتی حسن اور سیاحتی اہمیت رکھتا ہے بلکہ زیرِ زمین معدنی وسائل کے حوالے سے بھی غیر معمولی صلاحیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
دریں اثناء ضلع گوادر کے ساحلی علاقے جیونی میں نامعلوم مسلح افراد نے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کے ملازمین کو لے جانے والی ایک گاڑی پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ جیوانی کے علاقے میں گذشتہ روز پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے این ایل سی کے ملازمین کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت غلام مصطفیٰ، ثنا مسیح، کنول شہزاد اور دانش اقبال کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق غلام مصطفیٰ کا تعلق پنجاب، ثنا مسیح کا تعلق شیخوپورہ، پنجاب، کنول شہزاد کا تعلق کوئٹہ جبکہ دانش اقبال کا تعلق ضلع کرک سے تھا۔
بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ماضی میں بھی پاکستانی فورسز، سرکاری تنصیبات اور دیگر اداروں سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ تاہم جیوانی میں پیش آنے والے اس تازہ واقعے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی۔
