تربت ( نامہ نگار) ڈنک شاد آباد میں مسلح افراد کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر غفور شاد اور محقق فقیر شاد کی ہمشیرہ کے گھر میں مبینہ ڈکیتی کی کوشش ناکام بنا دی گئی، اہل خانہ نے مزاحمت کرتے ہوئے دو مبینہ ڈاکوؤں کو قابو کرلیا جنہیں بعد ازاں پولیس کے حوالے کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مغرب کے وقت دو مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے اور اہل خانہ کو یرغمال بنا کر خواتین سے زیورات، موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان چھیننے کی کوشش کی۔ اس دوران گھر میں موجود خواتین نے باہر والی بال کھیلنے والے اہل مردوں کو فون کرکے واقعے کی اطلاع دی۔
اطلاع ملنے پر پروفیسر ڈاکٹر غفور شاد، ان کے بھانجے نادل وفا اور لیکچرار دودا خان گھر کی جانب پہنچے تو مسلح ڈاکوؤں نے ان پر فائرنگ کردی تاہم وہ محفوظ رہے۔ بعد ازاں تینوں نے دیگر افراد کے ساتھ بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں مسلح افراد کو قابو کرلیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور اہل خانہ کے ہاتھوں پکڑے گئے دونوں ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرلیا۔
گرفتار ملزمان کی شناخت کنر ولد میجر حیاتان رند، ساکن صلالہ بازار آپسر، اور حکیم ولد حاجی ہاشم، ساکن ڈنک کے نام سے بتائی گئی ہے۔
اہل خانہ کے مطابق اگر گھر کے مرد بروقت نہ پہنچتے تو مبینہ ڈاکو گھر سے قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوجاتے۔
واضح رہے کہ 2019 میں اسی مقام پر برمش واقعہ پیش آیا تھا، جب اسی خاندان نے ایک مسلح ملزم کو قابو کرکے پولیس کے حوالے کیا تھا۔ اس واقعے کے دوران فائرنگ سے برمش کی والدہ ملک ناز جاں بحق جبکہ ایک سالہ برمش شدید زخمی ہوئی تھیں۔
