کوئٹہ ( نامہ نگار) پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے بلوچ طالب علم عمران علی کے اہل خانہ نے حکام سے ان کی قبر کی نشاندہی اور میت کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
27 اگست 2025 کو کوئٹہ سے پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے عمران علی کے بارے میں تقریباً ایک سال تک ان کے خاندان کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
6 اگست 2026 کو جبری گمشدگیوں کے انکوائری کمیشن کے سامنے کیس کی سماعت کے دوران ایک پولیس اہلکار نے پہلی بار انکشاف کیا کہ عمران علی 23 مئی 2026 کو ایک مسلح مقابلے کے دوران مارے گئے تھے۔
پولیس کا مؤقف تھا کہ شناخت کے عمل میں ایک ماہ کی تاخیر اور میت کی حالت خراب ہونے کے باعث اہل خانہ کو اطلاع دیے بغیر ہی تدفین کر دی گئی تھی۔
اہل خانہ نے پولیس کی اس وضاحت کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ہسپتال کے ریکارڈ سے حاصل ہونے والی خون میں لت پت لاش کی تصویر ہی ان کی ہلاکت کی واحد تصدیق ہے، جبکہ حکام کی جانب سے نہ تو کوئی ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا اور نہ ہی پوسٹ مارٹم رپورٹ یا تدفین کا کوئی سرکاری ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے۔
اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ قبر کی نشاندہی کی جائے اور میت واپس کی جائے۔
حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تدفین کے مقام سے فوری طور پر آگاہ کیا جائے اور باقیات کو نکال کر آزادانہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کے بعد باوقار تدفین کے لیے خاندان کے حوالے کیا جائے۔
اہل خانہ نے مقابلے کے سرکاری بیانیے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ عمران علی ہلاکت سے قبل 11 ماہ تک سی ٹی ڈی کی تحویل میں تھے۔ حراست سے رہا ہونے والے تین دیگر افراد نے بھی دورانِ حراست عمران علی سے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔
لواحقین نے اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطالبے کو دہراتے ہوئے عمران علی کی حراست، ہلاکت اور پراسرار تدفین کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
خاندان کا کہنا ہے کہ وہ سچائی اور انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی بھی غیر مصدقہ سرکاری بیانیے کو قبول نہیں کریں گے۔
