مستونگ ( نامہ نگار) بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہےکہ بلوچستان میں اجتماعی سزا اور بلوچ نسل کشی کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری ہے۔ ریاست کی جانب سے مستونگ میں باغات کے مالکان کو سرِعام میڈیا کے ذریعے دھمکانا اور ان کی محنت سے آباد کیے گئے باغات کاٹنے کی دھمکیاں دینا اس بات کا واضح اظہار ہے کہ بلوچستان میں ریاستی جبر اور اجتماعی سزا کی پالیسی میں بدترین تیزی لانے کا اعلان ہے ۔
انہوں نے کہاکہ جب کوئی شہری ان مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، تو اسے بھی محض بولنے اور سچ بیان کرنے کی پاداش میں ریاستی طاقت کا نشانہ بنا کر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں سینئر شہری اور ریٹائرڈ پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کی بدنامِ زمانہ سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتاری اس امر کی ایک اور مثال ہے کہ بلوچستان میں سیاسی اور سماجی معملات میں بولنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اجتماعی سزا، باغات کی کٹائی، شہریوں کو دھمکانے اور پرامن آوازوں کو طاقت کے ذریعے خاموش کرنے کی اس پالیسی کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں ریاستی بربریت اور جبر کے خلاف ہر صورت میں مزاحمت ہوگی۔
