مظلوم بلوچوں کے مسیحا اور معلم ڈاکٹر رشید کا قتل جنگی جرم ہے۔ چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ

 


کوئٹہ (نامہ نگار)  بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے پارٹی کے دیرینہ ساتھی اور مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عبدالرشید عرف نوکاپ بلوچ کے قتل کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ریاست و فوج کے مسلح کارندوں نے مریض کی بھیس میں آکر شم سر حق آباد میں  زندگی گزرنے والے پارٹی کے سینئر رہنما، جفاکش انسان دوست ساتھی ، ڈاکٹر اور معلم کو قتل کردیا، ڈاکٹر نوکاپ کا قتل ایک ایسے سیاسی کارکن، طبیب اور معلم کا قتل ہے جس نے اپنی پوری زندگی بلوچ قومی آزادی، انسانی خدمت اور علم کی روشنی پھیلانے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی جدائی بی این ایم، بلوچ قومی تحریک کے ہمدردوں، مظلوم بلوچ  کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے جن کے لیے وہ امید، علاج اور تعلیم کا وسیلہ تھے۔

چیئرمین نے کہاہے کہ شہید ڈاکٹر عبدالرشید عرف نوکاپ واجہ غلام حسین کے ہاں گندچائی کولواہ میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بچپن سے سماجی خدمات کے جذبے سے سرشار تھے۔ جوانی میں سیاست و سماج دونوں ان کی زندگی کا جزو لاینفک بن گئے۔ ڈاکٹر عبدالرشید کے اپنے گاؤں اور قریبی گاؤں میں سرکاری سکول تھے لیکن ٹیچر نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے گاؤں کے لیے اپنی مدد آپ ٹیچر کا بندوبست کیا اور خود قریبی گاؤں کنیچی میں رضاکارانہ سالوں تک بچوں کو پڑھاتے رہے۔ اس کے ساتھ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرچکے تھے اور علاقے میں لوگوں کی مفت علاج و معالجہ کرتے تھے۔ وہ کولواہ ریجن میں پارٹی کے ابتدائی ممبروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یونٹ سطح پر کام کرنے کے بعد وہ 2010 میں گیشکور زون کے نائب صدر، 2012 میں صدر اور 2012 ہی میں نئی زونوں کے تشکیل کے بعد وہ گندچائی زون کے صدر منتخب ہوئے۔ 2022 میں پارٹی مرکزی کونسل سیشن میں مرکزی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔

ڈاکٹر نوکاپ بلوچ نیشنل موومنٹ کے دیرینہ، نظریاتی اور انتہائی پُرعزم ساتھی تھے۔ وہ پارٹی پروگرام اور قومی آزادی کے مقصد سے غیرمتزلزل وابستگی رکھتے تھے اور ہر مشکل مرحلے میں ثابت قدمی کے ساتھ تنظیمی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ انہوں نے پارٹی کی نچلی سطح سے سیاسی و تنظیمی سفر کا آغاز کیا اور اپنی صلاحیت، دیانت، محنت اور نظریاتی استقامت کی بنیاد پر مختلف ذمہ دار عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ سنہ 2022 کے مرکزی کونسل سیشن میں انہیں بی این ایم کی مرکزی کمیٹی کا رکن منتخب کیا گیا اور تادمِ شہادت وہ اسی حیثیت سے اپنی قومی و تنظیمی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کولواہ میں ان کی سرگرم سیاسی وابستگی اور عوامی کردار کے باعث پاکستانی فوج نے انہیں مسلسل انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔ ان کے گھر کو بلڈوز کیا گیا، املاک لوٹ لی گئیں اور انہیں قتل کرنے کی بارہا کوشش کی گئی، تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ گھر کی تباہی اور علاقے میں غیرمحفوظ حالات کے باعث آبائی علاقہ کو چھوڑنے پر مخبور ہوگئے ۔ لیکن جبری بے گھری، مسلسل تعاقب اور ذاتی نقصانات بھی ان کے عزم کو توڑ سکے نہ انہیں قومی جدوجہد اور عوامی خدمت سے الگ کرسکے۔
چیئرمین نے کہا ہے کہ مغربی بلوچستان پہنچنے کے بعد ڈاکٹر نوکاپ نے شہروں کی نسبت ان دوردراز اور بنیادی سہولتوں سے محروم علاقوں کو اپنی خدمت کا مرکز بنایا جہاں جنگ اور ریاستی جبر سے نقل مکانی کرنے والے مظلوم بلوچ  انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے تھے۔ وہ ان حسب سابق  اور مقامی باشندوں کا مفت علاج کرتے اور ضرورت مند مریضوں کو ممکنہ طبی مدد فراہم کرتے تھے۔ ڈاکٹر نوکاپ صرف لوگوں کے زخموں کا مداوا کرنے والے مسیحا نہیں بلکہ علم بانٹنے والے معلم بھی تھے، انہوں نے بے گھر  اور مقامی بچوں کو بلا معاوضہ پڑھانا شروع کیا اور محرومی کے اندھیروں میں طب اور تعلیم کے دو چراغ روشن کیے۔ اپنا گھر چھن جانے کے باوجود وہ بے گھروں کا سہارا بنے اور اپنی تکالیف کو دوسروں کی خدمت کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
بلوچ نیشنل موومنٹ ڈاکٹر نوکاپ کی قومی، تنظیمی، طبی اور تعلیمی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھے گی۔ ان کا قتل ایک فرد کو خاموش کرنے کا واقعہ نہیں بلکہ بلوچ سماج کو اس کے باصلاحیت، خدمت گزار، سیاسی کارکنوں، معالجوں، معلموں اور انسان دوست شخصیات سے محروم کرنے کی منظم پالیسی کا تسلسل ہے۔ بی این ایم عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور ذمہ دار عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر نوکاپ کے قتل، سرحد پار بلوچ سیاسی کارکنوں کے تعاقب اور ان کے خلاف جاری منظم کارروائیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔

ڈاکٹر نوکاپ کا عزم، کردار اور بے لوث خدمت پارٹی کارکنوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی اور ان کا مشن بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں زندہ رکھا جائے گا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post