مستونگ / تفتان ( نامہ نگار )
مستونگ ( نامہ نگار ) مستونگ کے علاقے کڈکوچہ میں شدید نوعیت کی جھڑپ آٹھ گھنٹے گزر جانے کے باوجود کوئٹہ کراچی شاہراہ تاحال ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
ذرائع کے مطابق آج صبح 9 سے 10 بجے کے درمیان مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے فوج کی ایک بکتر بند گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنایا، جس کے فوراً بعد گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد مسلح افراد اور فوج کے درمیان دو مختلف مقامات پر شدید جھڑپیں ہوئیں، جو کافی دیر تک جاری رہیں۔ جھڑپوں کے دوران فوج کے متعدد اہلکاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جبکہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کو مکمل طور پر ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا ہے۔
آخری اطلاع تک فورسز اور مسلح افراد ایک دوسرے کو جانی مالی بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کر رہے ہیں۔
۔
علاوہ ازیں تفتان بارڈر پر سیکیورٹی خدشات کے باعث دو ماہ سے پھنسے 200 سے زائد تجارتی گاڑیوں کے ڈرائیور اور مالکان پریشان،
تفتان بارڈر پر دو ماہ سے پھنسے ڈرائیوروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر جانے کی اجازت دی جائے، ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ کانوائے کے نام پر بڑی تجارتی گاڑیوں کو دو ماہ سے تفتان بارڈر پر روکا گیا ہے، جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر متعدد ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ اگر انہیں جانے کی اجازت دی گئی تو وہ آئندہ کبھی تفتان نہیں آئیں گے۔
واضح رہے کہ حکومت بلوچستان نے فورسز حکام کے احکامات پر گزشتہ کئی ماہ سے تفتان بارڈر پر 200 سے زائد تجارتی گاڑیاں روک رکھی ہیں، جن میں ایران سے پنجاب اور پاکستان کے دیگر شہروں کو جانے والے ایل پی جی باؤزرز بھی شامل ہیں۔
پاکستانی فورسز حکام نے کوئٹہ، تفتان شاہراہ پر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے مسلسل حملوں کے باعث تجارتی گاڑیوں کو تفتان بارڈر پر روک رکھا ہے، جس کے باعث ڈرائیور اور گاڑی مالکان شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
مزید برآں بلوچستان میں ایل پی جی اور گیس منتقل کرنے والی گاڑیوں پر حملوں کے باعث پاکستانی صوبہ پنجاب کو گیس پریشر اور صنعتی گیس کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ بلوچستان میں جاری حملوں نے اس مسئلے کو پاکستانی حکومت کے لیے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

