کہاں گیا میر اصغر خان مینگل
کہاں گیا مولانا محمد افضل نوشکوی
کہاں گیا میر اکرم خان مینگل
ان کی ارواح پکار رہی ہیں کہ کس نے مارا ہمارے راکیش کو؟
ماضی قریب تک ہندو برادری دوسری بڑی اقوام کے مقابلہ میں بھی زیادہ محفوظ اور مضبوط تھی اس لئے کہ دوسری اقوام کا کوئی شخص جب کسی مشکل میں اجاتا ان کی قوم اور قبیلہ ساتھ دیتا مگر ہندو اور عیسائی اقلیت کا کوئی بند اگر کسی مشکل میں اجاتا نوشکی کے تمام اقوام ملکر ان کی مشکل حل کردیتے
15/10 سال قبل جب سیٹھ بسنت لعل اغوا ہوا میر اصغر خان شہید نے قومی لشکر ساتھ لیکر صرف ایک گھنٹہ کی تاخیر سے ان کا پیچھا کیا مگر مختصر مسافت کی وجہ سے اغواء کر اسے پار کرگئے میر صاحب نے چاغی میں کیمپ لگا کر سینکڑوں کے ساتھ بیٹھ گئے میں بھی ان کے ساتھ تھا 22 دن ہم نے ان علاقوں گزار دئے ایک شخص نے ایک دن ناشتہ پر کہا کہ کہ بس اب جائیں واپس اب ان کا ملنا ناممکن سا ہوگیا جواب میں میر اصغر خان نے کہا کہ زمین کو خون سے لال کرونگا نگر بسنت لال کو برآمد کئے بغیر نہیں جائیں گے چاہے سال گزر جائے
ان کو ڈھونڈنے کی جو کارروائی تھی وہ اتنی خطرناک تھی کہ ہر ہر لمحہ دسیوں بیسیوں لوگوں کی جان جاسکتی کئی لینڈ کروزر مسلح گاڑیاں بارڈر پار افغانستان میں دن بھر پٹرولنگ کرکے ڈھونڈتی رہتی اوپر سے امریکن B.52 جہاز اڑھ رہے تھے طالبان جان کر کسی بھی ٹائم بمباری کرکے پورے لشکر کو ان واحد میں ختم کرسکتے تھے مگر وہ شیر تھا ان چیزوں کی پرواہ نہیں کرتا آخر کار بسنت لال کو برآمد کرکے لے آیا نوشکی کی تاریخ میں سب سے برا،غیر سیاسی جلوس تھا جو کہ استقبال کیلئے دربند نکلا تھا مجاہدین کے گلے ہار ڈالے گئے اس وقت پہلے بار تھی کہ میں احقر بھی مجاہدین کی صف میں شامل ہوا تھا ہماری جماعت کے 8 ساتھی پہلے دن سے آخری دن 22 ایام تک ساتھ رہے دوسروں نے کچھ دیر بعد اپنے ہار اتار دئے میں نے اگلے دن تک گلے میں ڈالا تھا مسجد میں لوگ پوچھتے یہ ہار کس لئے؟ کیا آپ حج یا عمرہ پر گئے ہو؟ میں نے کہا نہیں میں چاغی و مرماسی گیا بسنت لال کو لایا ہوں
اگر میں اب بھی نوشکی میں ہوتا اس وقت جلوس نکال دیتا حالات جتنی بھی خراب ہوتیں
البتہ نوشکی اب بھی اپنی ممتاز حیثیت بحال رکھی ہے نوشکی کی امتیازی حیثیت دوسرے علاقوں کی نسبت بہت نمایاں ہے۔
