پنجگور سرکاری فورسز دعوی جھوٹا نکلا،پانچوں نعشیں جبری لاپتہ افراد کے ہیں ،ذرائع انسانی حقوق کے حلقوں کا تشویش کا اظہار

 


پنجگور ( نامہ نگار ) مقبوضہ بلوچستان کے ضلع پنجگور سوریں میں جعلی مقابلے میں  مارے جانے والے پانچوں افراد  کی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ افراد کے طورپر ہوگئی ،سرکاری دعوی ایک بار پھر  جھوٹ  نکلا ،رواں ہفتے بھی پانچ افراد کے مقابلے میں مارے جا نے کا دعوی کیاگیا تھا وہ بھی جعلی مقابلہ اس وقت ثابت ہوئی تھی جب نعشوں کی شناخت اہلخانہ نے جبری لاپتہ افراد کے طورپرکی تھی ،جنھیں مختلف اوقات میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

علاقائی ذرائع کے مطابق پنجگور سے گزشتہ روز ملنے والے لاشوں کی شناخت امام الدین ولد محمد اسحاق، سکنہ سوردو، ماجد ولد عبدالمجید، سکنہ سوردو، ضیا ولد نوراللہ، سکنہ سوردو، سلمان ولد پیران، سکنہ بونستان اور حفیظ ولد عبدالرحمن، سکنہ تارافس کے  ناموں سے ہوا  ہے۔
جن کے بارے سرکاری قابض دہشت گرد فورسز نے بیان جاری کیاتھا کہ یہ آپریشن دوران مقابلے میں مارے گئے ہیں ،اطلاع ملنے کے بعد نعشوں کی شناخت کیلے لوگ پہنچے تو اہلخانہ نے کہاکہ  
متوفی ماجد کو 2022 میں سوردو سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد سے وہ فورسز کی تحویل میں تھے۔ اسی طرح ضیا کو بھی فورسز نے 2022 کو رات گئے ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔

علاقائی ذرائع کے مطابق، باقی تین افراد بھی پہلے سے لاپتہ تھے، جن کی نعشیں گزشتہ روز فورسز کی جانب سے ہسپتال منتقل کیے گئے تھے ۔

خیال رہے پنجگور سمیت بلوچستان کے کئی علاقوں میں لاشیں ملنے کا سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بلوچستان کے بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان میں سے اکثر نعشیں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی ہوتی ہیں، جنہیں پاکستانی فورسز کی تحویل کے دوران مبینہ طور پر جعلی مقابلوں میں قتل کیا جاتا ہے۔

بعض اوقات نعشوں کی گل سڑ جانے اور خراب ہونے کے باعث ان کی شناخت کا عمل مکمل کیے بغیر ہی انہیں دفنا دیا جاتا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post