کوئٹہ ( پریس ریلیز ) مقبوضہ بلوچستان کے شہر مستونگ کے علاقے شمس آباد میں دو مسیحی نوجوانوں کے قتل کی خبر نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اس واقعے کی اصل کڑیاں ریاست پاکستان کے پالے ہوئے عناصر سے ملتی ہیں ،انہیں مذہبی بنیادوں پر یا کسی انتہا پسندانہ سوچ کے تحت نشانہ بنایا گیا، تو یہ نہ صرف ایک سنگین انسانی المیہ ہے بلکہ امن، انصاف اور مذہبی آزادی کے بنیادی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر وکیل صادق رئیسانی ایڈوکیٹ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کیا ہے ۔
ایڈوکیٹ نے کہاہے کہ بلوچ معاشرہ تاریخی طور پر مختلف مذاہب، ثقافتوں اور قومیتوں کے ساتھ بقائے باہمی کی روایت رکھتا آیا ہے۔ ہندو، مسیحی، پارسی، سکھ اور دیگر مذہبی اقلیتیں صدیوں سے بلوچستان کے سماجی، تجارتی اور ثقافتی ڈھانچے کا حصہ رہی ہیں۔ رواداری، مہمان نوازی اور باہمی احترام بلوچ معاشرے کی نمایاں اقدار سمجھی جاتی ہیں۔
صادق ایڈوکیٹ نے کہاہے کہ کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل، خواہ اس کا مذہب یا عقیدہ کچھ بھی ہو، انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ مذہبی اقلیتوں کو خوف و ہراس کا شکار بنانا نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اصولوں بلکہ اخلاقی اقدار کے بھی منافی ہے۔ اور ان سب کا زمہ دار ریاست پاکستان ہے جس دن سے پاکستان نے بلوچستان پر جبرا قبضہ کیا ہے ایک پرامن بلوچ معاشرے کی بنیاد کو متاثر کیا ہے ریاست پاکستان نے بلوچ سماج کے ہر فرد کے جان، مال اور عقیدے کی آزادی کو روند ڈالا ہے ۔
انھوں نے مزید کہاہے کہ بلوچ قوم کی جانب سے واضح طور پر یہ مؤقف رہا ہے کہ بلوچستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر کے حقوق اور تحفظ حاصل ہیں ، اور کسی بھی قسم کی مذہبی انتہاپسندی یا فرقہ واریت کے لیے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
آخر میں رئیسانی ایڈوکیٹ نے کہاہے کہ مقبوضہ بلوچستان کا مستقبل اسی وقت محفوظ اور روشن ہو سکتا ہے جب پاکستان اور ایران سے ازادی کو یقینی بنایا جائے اور دنیا کے ممالک بلوچستان کی ازادی کو تسلیم کریں اور بلوچستان سے پاکستان اور ایران کو بے دخل کرنے میں اپنا زمہ دارانہ کردار ادا کریں تو وہاں رہنے والے تمام افراد، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا عقیدے سے ہو، خود کو برابر کا شہری اور محفوظ انسان محسوس کریں گے ۔ مذہبی آزادی، انسانی وقار اور باہمی احترام ایسے اصول ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں، اور ان کا تحفظ ہر باشعور انسان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
