جبری لاپتہ رمضان بلوچ کے بھائی عبد الحق بلوچ کے ماورائے عدالت قتل پر گہری تشویش ہے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں ۔وی بی ایم پی

 


کوئٹہ ( نامہ نگار ) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) نے اپنے جاری کردہ بیان میں جبری لاپتہ رمضان بلوچ کے بھائی اور گوادر میں معمارِ نو اکیڈمی کے پرنسپل عبد الحق بلوچ کی قتل پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں دورانِ حراست قتل کیا گیا ہے تو یہ ایک نہایت سنگین اور قابلِ مذمت واقعہ ہے، جو بنیادی انسانی حقوق، آئین اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہے۔
وی بی ایم پی نے کہا کہ اہلِ خانہ کے مطابق عبد الحق بلوچ کو رواں سال فروری میں گوادر سے سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ تھے۔ اب ان کی لاش دیگر افراد کی لاشوں کے ساتھ ضلع گوادر کے علاقے جیوانی کے پنوان سے برآمد ہوئی ہے۔ اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ لاش پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔ ان الزامات اور حالات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ واقعے کی فوری، آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر کسی شخص پر کسی قسم کا الزام ہو تو آئین اور قانون کے مطابق اسے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ اسے منصفانہ ٹرائل اور اپنے دفاع کا حق حاصل ہو۔ کسی بھی فرد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا یا ماورائے عدالت قتل کرنا قانون کی حکمرانی اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے۔
وی بی ایم پی نے حکومتِ پاکستان، متعلقہ عدالتی و قانونی اداروں اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ عبد الحق بلوچ کی ہلاکت کے واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ایک آزاد اور شفاف تحقیقاتی عمل کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، اور اگر کسی فرد یا ادارے کی ذمہ داری ثابت ہو تو اسے قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عبد الحق بلوچ کے بڑے بھائی رمضان بلوچ کو 25 جولائی 2009 کو مشکے سے گوادر جاتے ہوئے اُوتھل کے زیرو پوائنٹ کے مقام سے مبینہ طور پر جبری لاپتہ کیا گیا تھا اور ان کے اہلِ خانہ آج تک ان کی بازیابی کے منتظر ہیں۔ وی بی ایم پی نے رمضان بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی دہرایا۔
وی بی ایم پی نے اس بات پر زور دیا کہ جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت ہلاکتیں نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ناقابلِ تلافی اذیت کا سبب بنتی ہیں بلکہ معاشرے میں قانون، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق پر عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post