سیشن جج عبدالحکیم کا قتل، بس پر فائرنگ اور کرفیو،بدترین جبر کی نشانی اور بلوچستان کی حقیقی صورتحال کی عکاس ہے۔ بی وائی سی



شال ( نامہ نگار )

شال ( نامہ نگار)بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ریاستی جبر اور تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ روز مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کا قتل، سوراب میں مسافر بس پر فائرنگ اور کھڈ کوچہ میں کرفیوں محض اتفاق یا حادثاتی واقعات نہیں بلکہ ان کے پسِ پردہ ریاستی پالیسی اور طرزِ عمل کار فرما ہیں۔
انہوں نے کہاکہ عبدالحکیم کاکڑ ایک جج کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے حساس نوعیت کے مقدمات، بالخصوص جبری گمشدگیوں سے متعلق کیسز کی سماعت کرتے رہے اور عدالتی کارروائی کے دوران متعلقہ اداروں سے سوالات اور جوابدہی کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔ ایسے حالات میں ان کو دن دہاڑے قتل کرنا بلوچستان میں قابل جج اور وکلاء کو نشانہ بنانے کا تسلسل ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
ترجمان نے کہاکہ اسی طرح چند روز قبل سوراب میں ایک مسافر بس کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس میں عام مسافر سوار تھے۔ حملے میں خواتین اور بچوں سمیت عام لوگ ہلاک ہوئے۔ پے در پے پیش آنے والے ایسے واقعات بلوچستان کی حقیقی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں کہ آج بلوچستان میں ریاست کی بلوچ نسل کشی پالیسی کے سبب حالات کس نہج تک پہنچ چکے جہاں نہ مسافر محفوظ ہے، نہ جج اور نہ عام شہری اپنے گھروں میں محفوظ ہے۔
انہوں نے کہاکہ جبکہ ریاستی جانب سے مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں مسلسل تین روز سے کرفیو نافذ ہے جس کے سبب عام شہری شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عرصۂ دراز سے سخت سیکیورٹی پابندیاں معمول بن چکی ہیں۔ متعدد علاقوں میں لوگوں کو اپنے ہی گاؤں آنے جانے، جبکہ بعض مقامات پر شادی، تعزیت اور دیگر سماجی تقریبات کے لیے بھی متعلقہ حکام سے اجازت لینا پڑتی ہے۔
مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سمجھتی ہے کہ بلوچستان میں ریاست کی بلوچ نسل کشی پالیسی اور تشدد اور طاقت کے استعمال نے بلوچستان میں عام شہریوں کی زندگیوں کو اجیران بنادیا ہے۔ کوئی بھی شہری محفوظ نہیں ہے۔ بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی بین القوامی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر بلوچستان کی صورتحال میں مداخلت کرکے ریاست کو بلوچ نسل کشی۔ تشدد اور طاقت کے استعمال سے روکا جائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post