بلوچستان، مزید تین افراد جبری لاپتہ، 15 افراد بازیاب

 


کوئٹہ ( نامہ نگار) بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مزید تین افراد کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا، جبکہ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 15 جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق 21 جولائی 2026 کی صبح کوئٹہ کے علاقے کلی الماس، ایئرپورٹ روڈ پر پاکستانی فورسز نے گھروں پر چھاپوں کے دوران حافظ عبدالنافع بلوچ ولد محمد ابراہیم بلوچ اور بیبرگ بلوچ ولد عین الدین بلوچ کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔

ذرائع کے مطابق دونوں کو آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے، تاہم ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

دریں اثناء خاران کے رہائشی میران بلوچ ولد گل خان کو 23 جولائی 2026 کی شام کوئٹہ کے بشیر چوک سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا۔ خاندان کے مطابق میران بلوچ کو تیسری مرتبہ جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 15 جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بازیاب ہونے والوں میں کوئٹہ سے شہزاد قمبرانی، محمد رحیم، عزیز بلوچ، عامر جمیل اور شہروز بلوچ شامل ہیں۔

پنجگور سے حفیظ اقبال، جبکہ پروم کے رہائشی زاہد بلوچ، عزیز اور فدا بھی بازیاب ہوگئے ہیں۔

اسی طرح آواران سے فضل بلوچ اور صدام حسین، واشک کے علاقے ناگ بازار سے جہانزیب اور بیزان، کیچ سے محمد صادق، سوراب سے خدا بخش اور ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ شریف سے مبین بلوچ کی بازیابی کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post