تربت ( نامہ نگار) جبری گمشدگیوں کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) ریجنل آفس تربت مکران کے زیرِ اہتمام تربت آفس میں آگاہی و احتجاجی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلاء اور سماجی شخصیات سمیت کئی افراد نے شرکت کی۔
پروگرام میں پروفیسر غنی پرواز سمیت کئی لوگوں نے اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے جبری گمشدگیوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی، متاثرہ خاندانوں کو معلومات کی فراہمی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر کچھ قراردادیں بھی منظور کی گئیں،
1. تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب اور رہا کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
2. ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور دیگر سیاسی کارکنوں کے مقدمات پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں رہا کیا جائے۔
3. سید بی بی شریف کے کیس پر نظرثانی کی جائے، ان کی MPO-3 میں توسیع نہ کی جائے اور انہیں رہا کیا جائے۔
4. سوراب میں پیش آنے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے آئندہ ایسے غیر منصفانہ اور ظالمانہ واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔
5. ماورائے عدالت قتل و غارت گری کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔
6. غریبوں کے گھروں کو مسمار کرنے اور لوگوں کو جبری طور پر نقل مکانی پر مجبور کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
7. قلات، مستونگ اور کھڈکوچہ کے باغات ختم کرنے سے متعلق بیان کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔
8. تربت کی مرکزی سڑکوں کو بار بار بند کرنے اور عوام کو مشکلات سے دوچار کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
9. زہری کور اور شادی کور کی آبادیوں کو جبری طور پر منتقل نہ کیا جائے۔
10. تمام سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات واپس لے کر انہیں غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔
پروگرام کے دوسرے حصے میں شرکاء نے تربت آفس کے سامنے پلے کارڈز اٹھا کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور جبری گمشدگیوں و ماورائے عدالت ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
