کیا میسی برانڈ کو بچانے کی کوشش کی گئی ذوالفقار علی زلفی

 


کیا مصر ارجنٹینا میچ میں فٹ بال کی قربانی دے کر کارپوریٹ مفادات کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی؟ ـ اس سوال کا "ہاں" یا "ناں" میں قطعی جواب دینا خاصا مشکل ہے ـ اس میں کوئی شک نہیں فٹ بال ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ قومی شناخت کی سیاست،  عالمی سرمایہ دارانہ مفادات کا اسٹیج اور بڑے کلبوں کی رسہ کشی کا میدان بھی ہے ـ اسی طرح لیونل میسی صرف ایک اچھے کھلاڑی نہیں ،  وہ عالمی سرمایہ داریت کا برانڈ بھی ہیں ـ اربوں روپے کی اسپانسرشپ اور کارپوریشنوں کے مفادات براہِ راست میسی جیسے برانڈز سے جڑے ہوئے ہیں ـ ایسے میں میسی جیسے سرمائے کو بچانے کی کوشش کرنا ناممکنات میں سے نہیں ہے ـ

اسی طرح مصری ٹیم کا ہر جیت کے بعد میدان میں فلسطینی پرچم لہرانا اور یہ اعلان کرنا کہ ارجنٹینا سے جیت کے بعد بھی یہ عمل دہرایا جائے گا،  صیہونیت اور اس کے پاسبانوں کے مفادات سے متصادم ہے ـ اس کے باوجود کسی ایک میچ میں ریفری کے متنازع فیصلوں کی بنیاد پر قطعی دعوی کرنا ٹھوس شواہد کا تقاضا کرتا ہے جو فی الوقت میرے پاس نہیں ہیں ـ 

ایک چیز جو حتمی ہے، وہ ریفری کے مسلسل غلط فیصلے ہیں جس نے ارجنٹینا کو ایک اپ سیٹ شکست سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ـ ورلڈکپ 2026 میں ماضی کے برعکس دو کھلاڑیوں کے درمیان معمولی جسمانی رابطوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ـ ورلڈکپ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مطابق ایسا فیفا کے سربراہ برائے ریفریز پیئرلوجی کولینا کی ہدایت پر کیا جا رہا ہے تاں کہ گیم کی رفتار تیز رہے ـ ورلڈکپ میچز کے دوران اس ہدایت کا مشاہدہ بھی عام رہا ہے ـ پھر زیکو کا شان دار گول کیوں مسترد ہوا؟ ـ

زیکو کے گول سے پہلے مروان نے مارٹینیز کی جرسی کو ہلکا سا کھینچا اور اس دوران اپنے پیر کو ان کے پیر پر رکھا ـ یہ نہایت ہی معمولی جسمانی رابطہ تھا جو اس پورے ورلڈکپ کے دوران نظرانداز ہوتا رہا مگر یہاں نوے ڈگری کا یوٹرن لے کر اسے فاؤل قرار دے دیا گیا ـ یہ فیصلہ ریفریز کے سابقہ فیصلوں سے مکمل عدم مطابقت رکھتا ہے ـ اگر میدان میں ایسے واقعات کو عام تصور کرکے نظر انداز کرنے کا چلن اپنایا جا رہا ہے پھر وی اے آر کو بھی اسی کے مطابق ڈھالنا چاہیے ـ حالاں کہ قبل ازیں امام عاشور کو تھپڑ مارا گیا مگر ریفری نے یلو کارڈ دکھانا دور اسے فاؤل تک قرار نہ دیا ـ 

فرنانڈیز کے گول سے پہلے الواریز نے محمد صلاح کو ارجنٹینا کے پینلٹی ایریا میں گرایا مگر یہاں ممکنہ پینلٹی کا جائزہ لینے کا معیار نہایت ہی نرم رکھ کر ارجنٹینا کے گول کو برقرار رکھا گیا ـ

ان دو بڑے غلط فیصلوں کے علاوہ بھی ارجنٹینا کو متعدد فری ککس دے گئے جب کہ مصر کو واضح طور پر محروم رکھا گیا ـ مصری کوچ کے احتجاج کا نوٹس لینے کے بجائے انہیں بھی یلو کارڈ دکھا کر ایک طرح سے دھمکی دی گئی ـ 

درج بالا بحث سے یہ نتیجہ تو نکلتا ہے کہ ریفری کا جھکاؤ ارجنٹینا کی طرف تھا مگر اس سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ فیفا نے کوئی سازش کی ہے ـ گو کہ یہ واضح ہے ریفری کی جانب سے میسی جیسے برانڈ کو ایک اپ سیٹ شکست سے بچانے کی پوری پوری کوشش کی گئی مگر یہ ریفریوں کا فیصلہ تھا یا کارپوریٹ مفادات کے تحفظ کی سرمایہ دارانہ کوشش ، اس سوال کا درست جواب حاصل کرنے کے لیے میدان سے باہر کی دنیا سے مزید معلومات درکار ہوں گی ـ امکانی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ عالمی سرمایہ داریت نے اپنے اربوں ڈالر کے منافع کو بچانے کے لیے ایک افریقی ٹیم کو زبح کردیا ـ

بہرحال اس میچ میں مصر نہیں فٹ بال ہارا

Post a Comment

Previous Post Next Post