نوشکی( نامہ نگار ) نوشکی لاک ڈاؤن اور کرفیو کے دعووں کی قلعی کھل گئی۔ رات کی تاریکی میں جب پورا شہر بند تھا اور سڑکوں پر خاموشی تھی، تب چوروں نے گوشت مارکیٹ میں مشتاق جمالدینی کی پرندوں کی دکان کا صفایا کر دیا۔
ذرائع کے مطابق چوروں نے دکان کا تالا توڑا اور قیمتی پرندے جیسے تیتر بٹیر چکور اور قیمتی مشہدی پرندے، لوہے کے پنجرے اور دیگر سامان سمیت تقریباً 7 سے 8 لاکھ روپے مالیت کا مال آرام سے اٹھا کر لے گئے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ واردات اس وقت ہوئی جب شہر میں کرفیو نافذ تھا اور پولیس و سیکیورٹی فورسز کی گشت کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔
مشتاق جمالدینی کا کہنا ہے کہ "یہ دکان ہی میرے بچوں کے رزق کا سہارا تھی۔ کئی سال کی محنت ایک رات میں لٹ گئی۔ دن کو غریب کے لیے کرفیو ہے اور رات کو چوروں کے لیے بازار کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔"
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ نوشکی میں کرفیو کے باوجود چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ عوام کا سوال بالکل بجا ہے: اگر کرفیو کا مقصد شہریوں کو تحفظ دینا ہے تو پھر تحفظ کون دے گا؟
ہم ڈپٹی کمشنر نوشکی، ایس پی نوشکی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
. فوری طور پر واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔
. رات کے وقت گشت اور ناکہ بندی کو مؤثر بنایا جائے۔
. مشتاق جمالدینی جیسے متاثرہ تاجر کو حکومتی سطح پر نقصان کا مداوا فراہم کیا جائے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی ذمہ داری صرف کرفیو لگانا نہیں، عوام کے جان و مال کی حفاظت بھی ہے۔ اگر آج مشتاق کا نقصان پورا نہ کیا گیا تو کل کوئی اور تاجر لٹے گا۔
