کوئٹہ ہنہ اڑک کے مظاہرین نے زیارت کے مظاہرین کو اپنے دھرنے میں ٹی ٹی پی کی مغویوں کو قتل کرنے کے دھمکی بعد شامل ہونے سے معذرت

 


کوئٹہ ( نامہ نگار ) کینٹ کے سامنے ہنہ اوڑک کے متاثرین کا دھرنا گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے، تاہم اب صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔ دھرنا منتظمین کا کہنا ہے کہ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر انہوں نے "زیارت شہدا" کے جنازوں کو اپنے دھرنے میں شامل کیا، تو ان کے لاپتہ ساتھیوں کو قتل کر دیا جائے گا۔
ان دھمکیوں کے بعد، ہنہ اوڑک کے متاثرین کی جانب سے دھرنے میں زیارت شہدا کے جنازوں کو شامل کرنے سے معذرت کر لی گئی ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر، زیارت شہدا کے لواحقین نے خود کو دھرنے کے مقام سے الگ کرتے ہوئے، قریب ہی واقع کوئلہ پھاٹک پر جنازوں سمیت دھرنا شروع کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ہنہ اوڑک کے 12 افراد اب تک لاپتہ ہیں، جن کے اہل خانہ بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہیں، جبکہ زیارت شہدا کے لواحقین بھی اپنے پیاروں کے انصاف کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔
مظاہرین  نے دھمکی کی کاپی  میڈیا کو جاری کی ہے  جس میں کہاگیا ہے قیدیوں کے حوالے سے پہلے بھی ہم نے آگاہ کیا تھا اب بھی آگاہ کرتے ہیں،
ہم قیدیوں کو ہلااک کرنے والے خبروں کی تردید کرتے ہیں .
ہمارے ساتھ پہلی جنگ میں 12 امن کمیٹی کے اہلکار قید ہیں وہ ہمارے ہاں محفوظ ٹھکانوں پر موجود ہیں
انکے حوالے سے اگر کوئی طاقت آزمائی کرتا ہے تو یہ انکی بھول ہے۔
قبائلی مشران بوڑھے علماء کے ساتھ ہم ان قیدیوں کے حوالے سے بات کرنے کو تیار ہیں۔
رہی دوسرے جنگ میں قیدیوں کی بات تو نا اس جنگ میں ہم نے کسی پولیس یا امن لشکر کسی کو بھی قیدی نہیں بنایا بلکہ 25 اہلکار دوبدو جنگ میں مارے گئے،
کبھی 9 قیدیوں کی ہلاکت تو کبھی 19 قیدیوں کی ہلااکت یہ سب جھوٹ ہے پروپیگنڈہ ہے۔
ناہی ہم نے علاقائی لوگوں کو دھمکی دی ہے کہ لاشیں دھرنے میں لے گئے تو دوسرے قیدیوں کو مار دینگے
ہم اسکی بھی تردید کرتے ہیں
عوام و قبائل مشران اپنے دشمن کو پہچانے کون ہے جو پروپیگنڈہ کرکے ہمیں آپس میں لڑوا رہا ہے۔
اور ہمارے آپس میں لڑنے سے کس کو فائیدہ ہورہا ہے
اگر ہم نے پہلے دن 9 قیدی مار دئے تھے تو انکی لاشیں کہاں ہیں ؟
اگر ہم نے 19 قیدی مارے ہیں تو انکی لاشیں کہاں ہے ؟
پولیس والے جو جنگ میں مارے گئے انکی لاشیں بھی تو آپکو ہسپتالوں سے حکومت لینے نہیں دے رہی
بہرحال اپنے دشمن کو پہچانے آپکے گمشدہ افراد بھی اسی حکومت کے ساتھ ہونگے جنھیں مار کر ہم پر الزام لگا کر یہ رزیل حالات کو اور کشیدہ بنانا چاہتے ہیں
ہم نے بہت سے آپکے علاقوں کے جواسیس بلکہ پولیس لیویز کے اہلکار بھی رہا کردیے ہیں جن پر مجااااااہدین کا کوئی نقصان ثابت نہیں ہوا یہ تو ہمارے ساتھ جنگی قیدی ہے
ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس صرف پہلے دن کے لڑائی دوران امن لشکر کے 12 قیدی موجود ہیں سلامت ہیں
ہم ہر پروپیگنڈے کی رد کرتے ہیں ۔
ولایتِ کویٹہ و ہرنائی ٹی آئی اے
انٹیلیجنس چیف عمر شھاب المہاجر
اس حوالے
عبدلمجیدکاکڑ نے جاری بیان میں اپیل کی ہے ک9
پشتون بھائیوں سے گزارش ہے کہ اپنے نام نہاد پارلیمنٹ پرست رہنماؤں کو پشتون دھرنے سے دور رکھیں، کیونکہ ایسے رہنما اکثر اپنی کرسی اور سیاسی مفادات کو قوم کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں اور سودے بازی کی سیاست میں مصروف رہتے ہیں۔
قوم کے حقیقی خیرخواہ وہ ہوتے ہیں جو ریاست کے سامنے بے خوف ہو کر حق کی بات کریں، نہ کہ ذاتی مفادات کے لیے سمجھوتے کریں۔ اگر پشتون قوم اپنے دھرنوں کی قیادت ایسے مخلص، قوم دوست اور پشتون دوست رہنماؤں کے سپرد کرے جو نہ اقتدار کے خواہش مند ہوں اور نہ کسی ذاتی فائدے کے، تو یہ قوم کے لیے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔
قوم کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو ہر وقت اپنی قوم کے حقوق، عزت اور مستقبل کے بارے میں نہ کہ اپنی سیاسی حیثیت اور کرسی کے بارے میں سوچیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post