خضدار ( پریس ریلیز ) خضدار سول سوسائٹی اور سیاسی سماجی حلقوں نے جاری بیان میں کہاہے کہ افسوس کہ ہر سانحے کے بعد صرف مذمتی بیانات رہ جاتے ہیں جبکہ انصاف آج بھی سوال بن کر کھڑا ہے۔ زمین کے مبینہ تنازع پر ایک ہی خاندان کے تین بھائیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں قابل انجینئر، حافظِ قرآن، بہترین اسپورٹس مین اور اپنی ٹیم کے کپتان شہید سکندر لہڑی شہید ہوگئے، جبکہ ان کے دو بھائی شدید زخمی ہوئے۔
یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ ریاستی رٹ، قانون کی عملداری اور شہریوں کے تحفظ پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی جائز ملکیت کے تحفظ کی کوشش کرتے ہوئے جان سے محروم ہو جائے تو پھر عوام انصاف کے لیے کس دروازے پر دستک دے۔
انھوں نے مزید کہاہے کہ
وزیراعلیٰ بلوچستان، آئی جی بلوچستان پولیس، آئی جی ایف سی بلوچستان اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ ہے کہ اس کیس کو محض ایک اور فائل بنا کر بند نہ کیا جائے۔ اس کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور فوری تحقیقات مکمل کی جائیں، ایف آئی آر میں نامزد تمام ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔
خضدار کے عوامی حلقوں نے کہاہے کہ
اگر بے گناہ لوگوں کا خون اسی طرح بہتا رہا اور انصاف میں تاخیر ہوتی رہی تو یہ صرف ایک خاندان نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہوگا۔ عوام انصاف چاہتے ہیں، کسی قسم کی رعایت یا تاخیر نہیں۔ قانون کی بالادستی اسی وقت ثابت ہوگی جب ہر ملزم، خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، قانون کے مطابق جوابدہ ہوگا۔۔۔
