کوئٹہ ( نامہ نگار) بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ اور سوراب سے مزید تین افراد کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ، عوامی پمپ، کلی حسین آباد کے رہائشی 15 سالہ عزیز بلوچ ولد محمد سلطان کو 23 جولائی 2026 کی شب تقریباً 12:30 بجے سریاب روڈ سے آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ عزیز بلوچ پیشے کے لحاظ سے رکشہ ڈرائیور ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہیں دوسری مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سوراب سے 12 جولائی 2026 کو شام تقریباً 5 بجے دو مزدوروں، خلیل احمد ولد محمد نور اور گل محمد ولد محمد جان، کو ان کے گھر سے ایف سی اور فوج کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جبکہ متعدد ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں جن کی اطلاع کئی ماہ بعد منظرِ عام پر آتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں متاثرہ خاندانوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے باعث کئی کیسز بروقت رپورٹ نہیں ہو پاتے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق نصیر بلوچ ولد مہراب خان، عمر 18 سال، سکنہ سریاب روڈ، کوئٹہ، جو ایک طالب علم ہیں، کو 27 مارچ 2026 کی رات تقریباً 2 بجے سریاب روڈ، کوئٹہ سے آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ یہ واقعہ کئی ماہ بعد رپورٹ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، 13 جولائی 2026 کو ضلع پنجگور سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تین افراد کی بازیابی کی اطلاع ملی ہے۔
بازیاب ہونے والوں میں سلمان بلوچ ولد محمد انور، سکنہ پنجگور، زبیر ولد اسماعیل، سکنہ خداآبادان، پنجگور، اور نبیل بلوچ ولد نذیر، سکنہ خداآبادان، پنجگور شامل ہیں۔ ان تینوں کو 23 جولائی 2026 کو بازیاب کیا گیا، جبکہ سلمان بلوچ اور زبیر کی رہائی کوئٹہ میں ہوئی۔ نبیل بلوچ کی رہائی کے مقام کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔

