تربت ( نامہ نگار ) کولواہ یونین کونسل بلور اور یونین کونسل جت کے عوام نے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن، بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقے کے لیے منظور کیے گئے 16 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے چار واٹر اسٹوریج منصوبے کرپشن کی نذر ہوگئے ہیں اور عوام ان سے تاحال مستفید نہیں ہوسکے۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ مختلف ترقیاتی اسکیموں میں بے ضابطگیاں کی گئی ہیں جبکہ مراستان بیلٹ کے بیشتر علاقوں میں آج بھی پینے کے صاف پانی کا شدید بحران برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی جیسا بنیادی مسئلہ حل کرنے کے بجائے منصوبوں کے فنڈز ضائع کیے گئے، جس کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔
احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت منظور ہونے والی تمام ترقیاتی اسکیموں، خصوصاً واٹر اسٹوریج اور بور منصوبوں کی شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کے مطابق متعدد بور ذاتی مفادات کی بنیاد پر منظور کیے گئے جبکہ اجتماعی اور عوامی ضرورتوں کو نظرانداز کیا گیا۔
مظاہرین نے حکومت بلوچستان، متعلقہ محکموں اور احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا مکمل آڈٹ کیا جائے، ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور علاقے میں پینے کے پانی سمیت دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ہمارا یوسی بجٹ سالانہ جتنا ہے عوام کو نہیں معلوم وہ کہاں خرچ ہوئے،انکی بھی تحقیقات ہونی چاہئیے ۔
