کوئٹہ ( نامہ نگار ) جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں 6191ویں روز جاری رہا۔
آج محمد ہاشم نیچاری اور یاسر احمد نیچاری کے لواحقین نے وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ سے ملاقات کرکے اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔ لواحقین کے مطابق محمد ہاشم نیچاری ولد عبدالقادر اور یاسر احمد نیچاری ولد منیر احمد کو 6 جون کی رات کلی فیض آباد سریاب، کوئٹہ میں واقع ان کے گھر سے سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں افراد کی گرفتاری کی وجوہات تاحال ظاہر نہیں کی گئی ہیں اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جس کے باعث اہلخانہ شدید ذہنی کرب، بے چینی اور اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔
ملاقات کے دوران وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ محمد ہاشم نیچاری اور یاسر احمد نیچاری کے مقدمے کو ملکی قوانین کے مطابق متعلقہ حکام اور انصاف کی فراہمی کے لیے قائم اداروں کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں افراد کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر دستیاب فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔
نصراللہ بلوچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ محمد ہاشم نیچاری اور یاسر احمد نیچاری کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور ان کے اہلخانہ کی تشویش و پریشانی کا فوری ازالہ کیا جائے۔