نواب بابا خیر بخش مری: آزادی، اصول، قربانی اور قومی شعور کا فلسفہ ، صادق رئیسانی ایڈووکیٹ

 


کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی ) نواب خیر بخش مری بلوچ تاریخ کی ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سیاست کو صرف اقتدار کا راستہ نہیں سمجھا بلکہ اسے اصول، شناخت اور قومی شعور کی جدوجہد قرار دیا۔ ان کی زندگی کا بنیادی پیغام آزادی، خودداری، نظم و ضبط، قربانی اور اپنے مقصد کے ساتھ وفاداری تھا۔
ان خیالات کا اظہار سینیئر وکیل محمد صادق رئیسانی نے سوشل میڈیا میں جاری بیان میں کی ہے ۔

انھوں نے کہاہے کہ نواب مری کے نزدیک آزادی صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ غلامی صرف زمین پر قبضے کا نام نہیں بلکہ سوچ، فیصلوں اور کردار کی غلامی بھی ہوتی ہے۔ ایک قوم اس وقت آزاد ہوتی ہے جب وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت پیدا کرے اور اپنی شناخت کی حفاظت کرے۔

ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ ان کی سیاست میں ڈسپلن کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی بھی تحریک صرف جذبات سے کامیاب نہیں ہوتی بلکہ نظم، صبر اور مسلسل جدوجہد سے آگے بڑھتی ہے۔ ان کے نزدیک کارکن کا کردار کسی بھی تحریک کی اصل طاقت ہوتا ہے؛ ذاتی مفاد، جلد بازی اور اختلافات کو مقصد پر قربان کرنا ضروری ہے۔

رئیسانی نے کہاہے کہ قربانی کے بارے میں نواب مری کا نظریہ بہت گہرا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ قومی جدوجہد میں قربانی دینے والے افراد تاریخ میں زندہ رہتے ہیں، لیکن قربانی صرف جان دینے کا نام نہیں بلکہ وقت، آرام، مفاد اور خواہشات کو ایک بڑے مقصد کے لیے وقف کرنا بھی قربانی ہے۔

ان کی شخصیت میں عاجزی بھی نمایاں تھی۔ وہ قبائلی روایت کے ایک بڑے نام ہونے کے باوجود سادگی اور زمین سے جڑے رہنے کو اہم سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ حقیقی قیادت وہ ہے جو عوام سے فاصلے نہیں بناتی بلکہ ان کے دکھ درد کو اپنا مسئلہ سمجھتی ہے۔

نواب خیر بخش مری کی سوچ میں گہرائی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ وقتی سیاسی فائدوں کے بجائے تاریخ کے بڑے دھاروں کو دیکھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قوموں کی بقا صرف طاقت سے نہیں بلکہ شعور، اتحاد اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے سے ہوتی ہے۔

انھوں نے کہاہے کہ پاکستان اور ایران کے حوالے سے بلوچ قومی سوال پر ان کا موقف یہ تھا کہ بلوچستان کی تاریخ، شناخت اور سیاسی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ بلوچ قوم کو اپنی تاریخ اور اپنے حقوق کے بارے میں واضح شعور ہونا چاہیے۔ ان کی جدوجہد میں بلوچستان کے مسئلے کو ایک تاریخی اور قومی تناظر میں پیش کیا گیا۔

اصولی اتحاد بھی نواب مری کی سیاست کا اہم پہلو تھا۔ ان کے نزدیک اتحاد صرف ناموں کا مل جانا نہیں بلکہ مشترکہ اصولوں، اعتماد اور مقصد پر قائم ہونا چاہیے۔ وہ ایسے اتحاد کے قائل تھے جس میں اختلاف رائے کے باوجود بنیادی مقصد کمزور نہ ہو۔

صادق ایڈووکیٹ نے مزید کہاہے کہ نواب خیر بخش مری کی میراث آج بھی اس سوال کے ساتھ زندہ ہے کہ ایک قوم اپنی شناخت، وقار اور مستقبل کے لیے کس طرح جدوجہد کرتی ہے۔ ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ مضبوط تحریکیں صرف نعروں سے نہیں بنتیں بلکہ کردار، برداشت، قربانی اور اصولوں سے تشکیل پاتی ہیں۔

سینیئر وکیل نے آخر میں کہاہے کہ تاریخ میں بعض شخصیات اپنے زمانے سے آگے سوچتی ہیں۔ نواب خیر بخش مری بھی ایسی ہی شخصیت تھے جنہوں نے سیاست کو طاقت کی جنگ نہیں بلکہ نظریے، شعور اور قومی ذمہ داری کا میدان سمجھا۔ایک عظیم بلوچ رہنما جس کے راستے پر بلوچ قوم تسلسل سے چلتے ہوئے مزاحمت کر رہی ہے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post