کوئٹہ ( نامہ نگار )
بلوچستان_نیشنل_پارٹی کے زیر اہتمام پارٹی کے مرکزی کال پر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں سانحہ #زہری کے واقعہ جس میں #سردار_نصیر_موسیانی کے فرزند سردار زادہ #خلیل_موسیانی #عمیر_سمالانی کی شہادت اور ان کے دوسرے فرزندوں و دیگر رشتہ داروں ، ساتھیوں کی گرفتاریوں ، قتل و غارت گری ، چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پارٹی کے دوستوں نے بھرپور شرکت کی مظاہرے سے پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ ، مرکزی فنانس سیکرٹری اختر حسین لانگو ، ضلعی ڈپٹی آرگنائزر جاوید بلوچ نے خطاب کیا جبکہ طاہر شاہوانی ایڈووکیٹ نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ، مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ ، مرکزی خواتین سیکرٹری شکیلہ نوید دہوار ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری احمد نواز بلوچ ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر ان غلام نبی مری ، ٹکری شفقت لانگو ، چیئرمین جاوید بلوچ ،حاجی باسط لہڑی ، میر مقبول لہڑی ، شمائلہ اسماعیل ، بی ایس او کے صمند بلوچ ، بی این پی آرگنائزر حاجی وحید بلوچ و دیگر آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران ، بی ایس او پارٹی کے سینئر رہنماﺅں و کارکنوں نے شرکت کی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بی این پی قومی جمہوری بلوچستان کی بڑی سیاسی جماعت ہے موجودہ فارم 47کے مسلط حکمران بلوچ پشتون نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ ، ماورائے قانون گرفتاریوں میں آئے روز اضافہ کے سبب رہی ہے مقررین نے کہا کہ سردار نصیر موسیانی خضدار کے سابق ناظم اعلیٰ رہے ہمیشہ سے ان کی جدوجہد جمہوری رہی اور وہ جمہوریت کے داعی رہے مگر مقام افسوس کہ گزشتہ روز فورسز کی جانب سے ان کے گھر پر حملہ ، چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی ، انہیں زووکوب اور فرزندوں کو گولیوں سے چلی کرنا کہاں کا انصاف ہے ان کے لخت جگر کو شہید کرنے اور دوسرے فرزندوں ، قریبی عزیزوں کی گرفتاری قابل افسوس ہے سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں پارٹی نے قومی جمہوری سیاست کی لیکن بلوچستان کے اہم معاملات جیسے کہ لاپتہ افراد کی عدم بازیابی ، آپریشن ، انسانی حقوق کی پامالی ، بے گناہوں کے خون بہانے کے خلاف ہمیشہ حق کی آواز بلند کی آج بلوچستان میں بلوچ ، پشتون و دیگر محکوم اقوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے جو کسی بھی طرح قابل برداشت نہیں بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ نے ایسے لوگوں کو اقتدار پر براجمان کیا جن کی وجہ سے حالات مزید ابتر اور بحرانی کیفیت سے دوچار ہو چکے ہیں ہم نے ہمیشہ حق و سچائی کی آواز بلند کی ہے بلوچستان نیشنل پارٹی سمیت ہر طبقہ فکر کے عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ سردار نصیر موسیانی کے فرزند اور عمیر سمالانی کی شہادت میں جو بھی ملوث ہیں صاف شفاف تحقیقات یقینی بناتے ہوئے حقائق کو منظر عام پر لایا جائے ناانصافیوں و ظلم و زیادتیوں کو بند کیا جائے آج ہمارے خواتین و بچے جیلوں میں پابند سلاسل ہیں ، ماورائے قانون اقدامات کو فوری طور پر بند کیا جائے سردار اختر جان مینگل و سمیت دیگر پارٹی دوستوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا پارٹی سیاسی جمہوری جماعت ہے جسے زیر کرنا ممکن نہیں بلوچ نسل کشی فوری طور پر بند کیا جائے فارم 47کے حکمران ناکام اور اخلاقی طور پر مستعفی ہوجائیں سانحہ زہری میں گرفتار جتنے زیر حراست ہے انہیں منظر عام پر لایا جائے ۔
