بلوچستان میں تمام ادارے غیر فعال ، ڈاکٹرز اور اساتذہ غیرمحفوظ ہیں،بی ایس او

 


کوئٹہ ( پریس ریلیز ) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں حکومت کی نااہلیوں و پرامن سیاسی جدوجہد کو بزورِ طاقت روکنے کی پالیسی سے تمام ادارے مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ چکے ہیں۔ تمام تر ریاستی مشینری کو صرف تنقید کرنے والے سیاسی کارکنوں کو بزورِ طاقت زیر کرنے پر لگایا جا رہا ہے۔ ریاست کے خود ساختہ ٹھیکے دار محض شعبدہ بازی پر لگے ہوئے ہیں، جبکہ حقیقی حوالے سے تمام اداروں کو مکمل طور پر کمزور کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں نہ ڈاکٹرز محفوظ ہیں اورنہ اساتذہ کرام و معاشرے کے دیگر طبقات ۔ آئے روز دلخراش واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن حکومتی سنجیدگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ گزشتہ روز کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینک کر قاتلانہ حملہ کیا گیا، جو تاحال کراچی میں زیرِ علاج ہیں۔ اس واقعے کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی جائے اور محرکات کو سامنے لایا جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان بھر میں شہری سیکیورٹی کی صورتحال خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کو مخصوص ایجنڈے کے تحت تقویت دے کر 16ویں صدی کی کاونٹر انسرجنسی کی ناکام تھیوریز و دانشوری کو بلوچستان پر مسلط کیا گیا ہے۔ اداروں کی فعالیت، لوگوں کی سیاسی شراکت داری و سماجی انصاف کے بجائے تمام تر توانائی کو سیاست پر کنٹرول حاصل کرنے پر لگایا گیا ہے، جس کے منفی معاشرتی اثرات اب نمودار ہو رہے ہیں۔
بی ایس اوکے مطابق آج بلوچستان ایک شدید انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بلوچستان کے تمام سنجیدہ سیاسی طبقات کو اس معاشرتی جمود اور سیاسی عدم فعالیت کے حوالے سے سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، تاکہ ایسے درندگی کے واقعات اور ان کے محرکات کا سدباب کیا جا سکے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post