زبیر شاہ آغا کی جبری گمشدگی شرمناک ہے، اسیر رہنماؤں کے لواحقین کو پریس کانفرنس کی اجازت نا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔بی وائی سی



کوئٹہ (نامہ نگار ) 
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں کے اہلِ خانہ اور آل پارٹیز کی جانب سے آج 28 جون شام 5 بجے کوئٹہ پریس کلب میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ اور دیگر اسیر رہنماؤں کو سنائی گئی غیر منصفانہ سزاؤں کے خلاف ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی جانی تھی۔ تاہم انتظامیہ نے اظہارِ رائے اور سیاسی مؤقف پیش کرنے کے بنیادی جمہوری حق کو سلب کرتے ہوئے پریس کلب میں پریس کانفرنس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
ترجمان نے کہاکہ پریس کلب کے دروازے بند ہونے کے باوجود لواحقین خاموش نہیں ہوئے اور انہوں نے مجبوراً وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں اپنی پریس کانفرنس منعقد کی۔ مگر افسوس کہ وہاں بھی پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے جمع ہوکر لواحقین، سیاسی کارکنوں اور شرکاء کو ہراساں کرنا شروع کیا۔
انہوں نے کہاکہ پریس کانفرنس کے اختتام پر خفیۂ ایجنسیوں کے اہلکاروں اور پولیس نے کانفرنس میں شریک پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما زبیر شاہ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دو مقامی دکاندار، جنہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شرکاء کو پانی فراہم کیا تھا، انہیں بھی گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
ترجمان نے کہاکہ یہ واقعات اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ ریاست اب صرف سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں ہی کو نشانہ نہیں بنا رہی بلکہ ان لوگوں کو بھی سزا دی جا رہی ہے جو محض انسانی ہمدردی اور اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جب پریس کانفرنسوں پر پابندیاں ہوں، جب متاثرہ خاندانوں کو اپنی بات کہنے کے لیے بھی جگہ نہ دی جائے، تو یہ کسی جمہوری معاشرے کی نہیں بلکہ جبر، خوف اور سیاسی انتقام کی علامت ہے۔

ترجمان نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے، سیاسی سرگرمیوں پر عائد غیر اعلانیہ پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے، اور متاثرہ خاندانوں کو اپنی آواز بلند کرنے کا حق دیا جائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post