کوئٹہ کھٹ پتلی انسدادِ دہشت گردی عدالت رضیہ کے بیٹے جج نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنا دی

 


کوئٹہ( نامہ نگار )کوئٹہ کھٹ پتلی  انسدادِ دہشت گردی عدالت رضیہ کے بیٹے جج (اے ٹی سی)  نے فوج کی جانب سے دائر  ایک بدنیتی پر مبنی درج  مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
رضیہ  کے  بیٹے  فیصلے مطابق دونوں ملزمان کو مقتول ایف سی اہلکار شبیر احمد کے قتل کے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(ب) کے تحت مجرم قرار دیا گیا۔ کھٹ پتلی عدالت نے دونوں کو عمر قید کی سزا کے علاوہ مقتول کے قانونی ورثا کو دو، دو لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دے دیا ۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معاوضے کی عدم ادائیگی کی صورت میں دونوں ملزمان کو مزید چھ، چھ ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔
نام نہاد عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ دونوں ملزمان غیر قانونی اجتماع میں شریک تھے اور ان کے اقدامات انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 6 کے تحت دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اسی بنیاد پر عدالت نے انہیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7(اے) کے تحت بھی عمر قید اور دو، دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
کھٹ پتلی عدالتی حکم کے مطابق جرمانے کی عدم ادائیگی پر دونوں ملزمان کو مزید چھ ماہ قید کا سامنا کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 1، کوئٹہ نے ایف آئی آر نمبر 105/2024، تھانہ سٹی گوادر سے متعلق مقدمے میں سنایا۔
اس کیس میں بی ایس او کے مرکزی چیئرمین بالاچ قادر اور ابوبگر کلانچی بھی نامزد تھے تاہم وکلا کے مطابق انہیں عمر قید کی سزا نہیں دی گئی۔

آپ کو علم ہے پاکستان میں ،عدلیہ ،مقننہ اور صحافت  فوجی کنٹرول میں ہیں ،وہ جس کو چاہیں اقتدار کی تیار کرسی پر بٹھائیں ،سزا دلوائیں بری کریں یا کسی کی کردار کشی کرکے میڈیا کے زریعے انھیں آسمان سے زمین پر پھینک دیں یا زمین سے اٹھاکر آسمان پر پہنچادیں ،اگرآپ کسی بھی شعبہ میں  کہیں بھی رضیہ کا فرمانبردار بیٹا یا بیٹی بن کر فوج آگے پیچھے دم ہلائیں  آپ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا  ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post