نوشکی مرکزی شاہراہ پر گاڑیاں نذرآتش،فورسز نے 5 مسلح افراد کو مارنے کا دعوی کردیا

 


خاران / نوشکی ( نامہ نگاران )  خاران کی وادی سراوان میں پاکستانی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ مسلح  افراد  کے ٹھکانوں کی خفیہ معلومات پر ایک مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کارروائی کے دوران فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے زیرِ استعمال ایک گھر کو مکمل طور پر کلیئر کروا لیا گیا ہے، جہاں سے 3 کواڈ کاپٹر (ڈرونز) اور 3 موٹر سائیکلیں قبضے میں لی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کی جانب سے نصب کردہ 2 دیسی ساختہ بموں (آئی ای ڈیز) کو بھی ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی اب بھی جاری ہے۔
آزاد ذرائع سے مزکورہ آپریشن کی تصدیق نہیں ہوپائی ہے ،آپ کو علم ہے فورسز اکثر جبری لاپتہ افراد کو حراست دوران قتل کرکے مقابلے کا نام دیتے چلے آرہے ہیں ۔
اسی ہفتے تربت پسنی شاہراہ سے رحمدل نامی نوجوان کی نعش ملی تھی جسے فورسز نے پانچ ماہ  قبل ہوشاپ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنادیاتھا ۔

دوسری جانب نوشکی میں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران دو گاڑیوں کو نذرآتش کردیا۔
نوشکی کے علاقے مل میں کوئٹہ تفتان مرکزی شاہراہ پر ایک بوزر سمیت دو گاڑیوں کو نذرآتش کردیا گیا ہے۔
مذکورہ شاہراہ پر آج یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل مستونگ کے علاقے شیخ واصل میں مسلح افراد نے بوزر سمیت سات گاڑیاں چھین کر لے گئے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post