گوادر راچی مچی دوران ڈاکٹر ماہ رنگ ساتھیوں کیخلاف جھوٹی ایف آئی آر میں عمر قید کی سزا کی مذمت کا سلسلہ جاری ، پاکستانی ،بلوچستانی ،مذہبی، سیاسی، سماجی تنظیوں نے بیانات جاری کردیئے

 


کوئٹہ ( نامہ نگاران ) تحریک تحفظ آئین پاکستان ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو آج آن لائن جیل ٹرائل کے ذریعے سزا سنائے جانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ انصاف کے قتل، آئین کی روح سے انحراف اور شہری آزادیوں پر ایک اور سنگین حملہ ہے۔ خفیہ اور محدود رسائی والے جیل ٹرائلز انصاف نہیں بلکہ ریاستی جبر کو قانونی لبادہ پہنانے کی ایک افسوسناک مثال بن چکے ہیں۔

‏بیان میں کہا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اختلافِ رائے کو دشمنی، تنقید کو بغاوت اور سیاسی مزاحمت کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ یہی طرزِ عمل پاکستان تحریک انصاف کی قیادت، کارکنان، منتخب نمائندوں، خواتین، وکلاء اور صحافیوں کے خلاف گزشتہ کئی برسوں سے اختیار کیا جا رہا ہے، جہاں جھوٹے مقدمات، غیر قانونی گرفتاریاں، ماورائے عدالت اغوا، غیر شفاف ٹرائلز اور بنیادی آئینی حقوق کی مسلسل پامالی معمول بن چکی ہے۔

‏انہوں نے کہاکہ آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اسی خطرناک سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔ اگر نوجوانوں کی آواز کو طاقت کے ذریعے کچلا جائے گا، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ماورائے عدالت اغوا کیا جائے گا، اختلافِ رائے رکھنے والوں کو جیلوں میں بند کیا جائے گا، اور قائدِ حزبِ اختلاف کے خلاف صرف ایک تقریر پر چمن میں مقدمات قائم کیے جائیں گے، تو سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کو کس اندھیرے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے؟ کیا آئین اب صرف کمزوروں کے لیے رہ گیا ہے جبکہ طاقتور ادارے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں؟

‏مزید کہاکہ ریاست کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خوف، جبر، سیاسی انتقام اور عدالتی عمل کے غلط استعمال سے نہ عوام کی آواز دبائی جا سکتی ہے اور نہ ہی آزادی اور انصاف کی جدوجہد کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر قائم ہونے والا ہر غیر آئینی نظام بالآخر عوامی مزاحمت اور قانون کی بالادستی کے سامنے شکست کھاتا ہے۔

‏انہوں نے کہاکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف دیا گیا فیصلہ فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے، تمام سیاسی قیدیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ضمیر کے قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے، ماورائے عدالت اغوا، سیاسی انتقام اور غیر شفاف جیل ٹرائلز کا سلسلہ بند کیا جائے، اور آئین پاکستان کو ریاست کے ہر ادارے پر حقیقی معنوں میں بالادست بنایا جائے۔

‏آخر میں کہاکہ ہم واضح کرتے ہیں کہ اگر ریاست نے آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالی کا یہی راستہ اختیار کیے رکھا تو اس کے نتائج صرف افراد یا جماعتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا ملک سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی بحران اور عوام کے بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی دلدل میں مزید دھنس جائے گا۔ پاکستان کو طاقت، انتقام اور خاموشی کے ذریعے نہیں بلکہ آئین، قانون، انصاف اور عوامی حاکمیت کے ذریعے ہی بچایا جا سکتا ہے۔‏

بلوچ وومن فورم
بی ڈبلیو ایف کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے پرامن سیاسی کارکنان، انسانی حقوق کے کارکنان اور اختلافِ رائے رکھنے والے آوازوں کو مختلف نوعیت کے جھوٹے اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات میں الجھا کر پابندِ سلاسل کیا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ اور دیگر سیاسی کارکنان کے خلاف جاری فیس لیس ٹرائل اور اس کے نتیجے میں سنائی جانے والی سزائیں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست بلوچ عوام کی پرامن اور جمہوری آوازوں کو برداشت کرنے کے بجائے انہیں خاموش کرانے کے لیے مختلف حربے استعمال کررہی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سیاسی اختلاف اور اپنی حقوق کے لیے آواز اٹھانا کوئی جرم نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ پرامن سیاسی کارکنان کو انتقام کا نشانہ بنانا انہیں طویل عرصے تک قید و بند میں رکھنا اور شفاف عدالتی کارروائی کے تقاضوں سے انحراف کرنا نہ صرف انصاف کے اصولوں کی نفی ہے بلکہ بلوچستان میں پہلے سے موجود سیاسی بے چینی اور عدم اعتماد میں مزید اضافہ کرنے کا سبب بنے گا۔

آخر میں کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنان کے خلاف سنائے گئے فیصلوں پر فوری نظرِ ثانی کی جائے، انہیں انصاف کے تقاضوں کے مطابق شفاف عدالتی کارروائی کا حق فراہم کیا جائے، اور بلوچستان میں سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے مسائل کے حل کے لیے جمہوری اور سیاسی راستہ اختیار کیا جائے۔
آخر میں ہم انسانی حقوق کی قومی و بین الاقوامی تنظیموں، وکلا برادری، سول سوسائٹی اور انصاف پسند حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ سیاسی کارکنان کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی آواز بلند کریں اور ہمارا ساتھ دیں۔

جئے سندھ فریڈم موومنٹ (JSFM) نے کہا ہے کہ پاکستان کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے معروف بلوچ انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ کو سنائی گئی ، تنظیم عمر قید کی سزا کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایک اور رہنما کو 2024 کے احتجاجی کیس سے متعلق مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے۔

JSFM کا ماننا ہے کہ سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور پرامن جدوجہد کرنے والوں کو مسلسل نشانہ بنانا جمہوری اقدار، اظہارِ رائے کی آزادی، اور مظلوم اقوام کے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے حق پر سنگین حملہ ہے۔

مزید کہاکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قید انسانی حقوق اور انصاف کے لیے ایک افسوسناک دن ہے۔ چاہے سندھ ہو، بلوچستان ہو یا کوئی اور خطہ، پرامن سیاسی سرگرمیوں کو جرم قرار دینا صرف بداعتمادی اور تکلیف میں اضافہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکی ہیں۔ ایسی آوازوں کو قید کر کے خاموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس سے بلوچ عوام کے جائز مطالبات ختم کیے جا سکتے ہیں۔”

“JSFM ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، ان کے خاندان اور ان تمام افراد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے جو امن، انصاف، وقار اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم کارکنوں کے خلاف جبر کے استعمال کو مسترد کرتے ہیں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار اور بنیادی آزادیوں کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

جئے سندھ فریڈم موومنٹ اپنے اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ آزادی، انصاف، انسانی وقار اور تمام اقوام کے اس حق کے ساتھ کھڑی ہے کہ وہ خوف، جبر اور سیاسی انتقام کے بغیر زندگی گزار سکی۔

پاکستان بار کونسل کے ممبر بلوچستان، وائس چیئرمین بلوچستان بار کونسل ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور اسے انصاف کے بنیادی اصولوں، منصفانہ سماعت کے حق اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہیں۔

بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کی جانب سے باقاعدہ وکالت کر رہے تھے۔ ان کے مطابق انہیں بغیر کسی قانونی اختیار اور جواز کے اپنے منتخب وکلاء کی نمائندگی سے محروم کر دیا گیا۔

مزید برآں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی جانب سے پیشگی طور پر آگاہ کیا گیا تھا کہ دو سرکاری طور پر مقرر کردہ وکلاء کی خدمات انہیں درکار نہیں، کیونکہ ان کے اپنے منتخب کردہ وکلاء موجود ہیں۔ اس کے باوجود ان کی خواہش اور ہدایات کے برخلاف سرکاری وکیل مقرر کیا گیا۔

بار کونسل نے کہا ہے کہ جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی جانب سے متعلقہ جج پر اعتراض اٹھایا گیا اور اس سلسلے میں باقاعدہ درخواست عدالت کے روبرو پیش کی گئی، تو مؤقف کے مطابق عدالت نے مذکورہ درخواست کو ریکارڈ کا حصہ بنانے سے بھی انکار کر دیا۔ بعد ازاں اس اقدام کو آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کیا گیا اور فوری سماعت کے لیے متفرق درخواستیں بھی دائر کی گئیں، لیکن بدقسمتی سے صوبے کی اعلیٰ ترین عدالت نے فوری سماعت کی استدعا قبول نہیں کی۔

ہمارا مؤقف ہے کہ جب تک ان اعتراضات اور زیرِ التوا قانونی نکات کے فیصلے نہیں ہو جاتے، تب تک ملزمان کے منتخب وکلاء کے حقِ نمائندگی اور عدالتی کارروائی کی شفافیت سے متعلق بنیادی سوالات برقرار رہیں گے، جن کا بروقت اور مؤثر ازالہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بصورتِ دیگر انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان تمام واقعات نے مجموعی طور پر عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کو متاثر کیا ہے اور انصاف کی فراہمی کے عمل کے بارے میں سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔

بار کونسل متعلقہ عدالتی اور آئینی فورمز سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے تاکہ قانون کے مطابق بنیادی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مزید کہا گیا کہ ہم آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارٹی ماہ رنگ بلوچ کو سنائی گئی سزا پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ اس مقدمے میں بنیادی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور انہیں شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔

‏انہوں نے کہاکہ انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کر کے دی جانے والی سزائیں نہ صرف قانونی نظام پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہیں۔ کسی شہری کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا اور بغیر مکمل منصفانہ ٹرائل کے سزا دینا آئین کی روح کے منافی ہے۔

‏انہوں نے کہاکہ اس طرح کے اقدامات سے بلوچستان کے عوام کی آواز نہیں دبائی جا سکتی۔ عوامی مسائل اور جائز مطالبات کو طاقت سے ختم کرنے کے بجائے انہیں سنجیدگی سے سننا اور حل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

‏پاکستان تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ ماہرنگ بلوچ کو فوری طور پر شفاف اور منصفانہ ٹرائل دیا جائے اور اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے تاکہ انصاف نظر آئے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ( بی ایس او ) کے چیئرمین اور ایم فل اسکالر بالاچ قادر کو عمر قید کی سزا سنانے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے، جو اپنی ریاستی طاقت اور اداروں کو بلوچستان میں خوف و دہشت پھیلانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچستان کی نوجوان قیادت کو عمر قید کی سزا دے کر مزاحمتی سیاست کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ، صبغت اللہ اور بالاچ قادر پرامن سیاسی مزاحمت کے ذریعے بلوچ قوم کے خلاف ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ انھیں سزا دی گئی ہے تاکہ بلوچ قومی کارکنان کو خوفزدہ کیا جاسکے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ قوم ‘فیس لیس’ عدالتوں اور پاکستان کے آئین و قوانین پر مکمل عدم اطمینان کا اظہار کرتی ہے۔ یہ سزا محض چند شخصیات یا بلوچ قوم کی مستقبل کی قیادت کے خلاف نہیں، بلکہ پوری بلوچ قوم کے خلاف ریاست کا فیصلہ ہے، جس کے خلاف ہر سطح پر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔ ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان کی یہ عدالتی دہشت گردی بلوچ قومی تحریک اور مزاحمتی سیاست کا راستہ نہیں روک سکتی۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے جاری بیان میں بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذمت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ماضی میں بھی ایسے متعدد فیصلے سامنے آتے رہے ہیں جن کے سیاسی اور سماجی سطح پر منفی اور دور رس اثرات مرتب ہوئے، جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر رہنما آئین پاکستان کے آرٹیکل 10-اے کے تحت شفاف اور منصفانہ ٹرائل کے حق کا مطالبہ کر رہے تھے، تاہم انہیں یہ بنیادی آئینی حق فراہم نہیں کیا جا رہا تھا۔ ایسے حالات میں سزا کا فیصلہ سنانا مجموعی طور پر مقدمے کی شفافیت اور منصفانہ عدالتی عمل پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ آئین اور قانون ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق فراہم کرتے ہیں اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیے بغیر کیے جانے والے فیصلے نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ریاستی اور عدالتی اداروں کی ساکھ پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان کے مسائل کو سنجیدگی، سیاسی بصیرت اور آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔ مسائل کے سیاسی حل مکالمے اور آئینی راستوں کو اختیار کرنا ہی دیرپا امن استحکام اور عوام کے اعتماد کی بحالی کی ضمانت فراہم کر سکتا ۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن سیاسی و انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والے بلوچ رہنماؤں کو دہشتگردی کے مقدمات میں الجھا کر عمر قید کی سزائیں سنانا انصاف کا قتل ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی جبری گمشدگی، ماورائے آئین قتل اور وسائل کی لوٹ مار کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ ایک پرامن احتجاج کو تشدد کا نام دے کر پوری قیادت کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینا ریاست کی بوکھلاہٹ اور بلوچ عوام کی آواز کو دبانے کی کوششوں کے سوا کچھ نہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزائیں سنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بلوچ عوام کے بنیادی سوالوں کا جواب قانون، انصاف اور عدالت کے بجائے طاقت، تشدد اور جبری طور پر قید و بند سے دینا چاہتی ہے۔ جبری گمشدگی، ماورائے آئین قتل، وسائل کی لوٹ مار پر آواز اٹھانا جرم نہیں ہے۔ پرامن احتجاج کو دہشتگردی کا لیبل لگا کر سیاسی قیادت کو ختم کرنا ریاست کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری کے مترادف ہے ۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اس فیصلے کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ یہ سزائیں نہ صرف ملزمان کے بنیادی انسانی و قانونی حقوق پامالی ہیں بلکہ بلوچ عوام کے لیے ایک پیغام ہے کہ پرامن سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ہم واضح کرتے ہیں کہ یہ سیاسی مقدمات انصاف کا عمل نہیں بلکہ بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہیں ۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام رہنماؤں کی رہائی تک جدوجہد جاری رہے گی اور مطلق العنان حکمرانوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں بندوق کی نوک پر امن مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

آخر میں کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ سیاسی مقدمات فوراً ختم کیے جائیں ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ اور سمیت تمام گرفتار رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے اور بلوچ عوام کے پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ عدالتوں کا کام انتقام لینا نہیں بلکہ انصاف دینا ہوتا ہے۔ آج کا فیصلہ عدالتی تاریخ میں ایک بدنما داغ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ آج اگر عدالتوں نے آئین کی حفاظت نہ کی، تو کل تاریخ ان سے سوال کرے گی۔ لہذا واضح کرتے ہیں کہ ہم بلوچ سیاسی رہنماؤں کو تنہا نہیں چھوڈیں گے کیونکہ ظالم و مظلوم کے تعین کا فیصلہ تاریخ کرے گی ۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی سبغت اللہ سمیت بلوچ سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پُرامن سیاسی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی کارکنان طویل عرصے سے گرفتاریوں، ہراسانی اور مختلف ادوار میں حکومتی کریک ڈاؤن سمیت سخت حالات کا سامنا کرتے آئے ہیں۔

بیان کے مطابق منصفانہ ٹرائل، شفاف تحقیقات اور انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عام عوام میں بھی انصاف کی فراہمی کے حوالے سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔

بی ایس اے سی نے کہا کہ بلوچ سیاسی کارکنان گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں، تاہم انہیں نہ تو منصفانہ سماعت کا موقع فراہم کیا گیا اور نہ ہی شفاف تحقیقات کرائی گئیں۔

تنظیم کے مطابق دورانِ حراست ہراسانی کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے جبکہ کارکنان کو اپنی پسند کے وکلا کے انتخاب اور اپنے مؤقف کے اظہار کے بنیادی و قانونی حق سے بھی محروم رکھا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی فرد پر عائد الزامات کی شفاف تحقیقات، گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر اوپن کورٹ میں سماعت ہونی چاہیے اور قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے، تاہم موجودہ صورتحال سیاسی انتقام اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوششوں کی عکاس ہے، جو انسانی حقوق اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے بلوچ سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا سنانے کے عمل کو انصاف اور شفافیت کے تقاضوں کے برخلاف قرار دیتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق پر سنگین حملہ قرار دیا۔

تنظیم نے کہا کہ پُرامن سیاسی جدوجہد کو اس نوعیت کے اقدامات سے نہیں روکا جا سکتا اور محض سیاسی سرگرمیوں کی بنیاد پر کارکنان کو سخت سزائیں دینا نظامِ انصاف پر ایک سیاہ داغ ہے۔

بی ایس اے سی نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر شفاف اور انتقامی کارروائی قرار دیا اور اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post