میر سفیر بلوچ طویل اور مستقل سیاسی جدوجہد کے حامل رہنماء ہیں. سر کی قیمت مقرر کرنے اور انعامی اشتہارات سے قومی جدوجہد ختم نہیں کیا جا سکتا. ڈاکٹر نسیم بلوچ

 


 کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے میر سفیر بلوچ، بلوچ نیشنل موومنٹ کے سینئر رہنما اور بی ایس او کے سابق سیکرٹری جنرل ہیں۔ وہ اُن چند سیاسی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے بلوچستان میں جمہوری سیاست، قومی حقوق اور عوامی آواز کے لیے طویل اور مستقل جدوجہد کی ہے۔

گزشتہ روز پاکستان کی جانب سے اُن کے نام پندرہ کروڑ روپے کا انعام مقرر کر کے دراصل دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی جدوجہد کے لیے کوئی جمہوری گنجائش موجود نہیں۔ جب کسی سیاسی رہنما کے سر کی قیمت مقرر کی جائے تو اس کا واضح مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریاست سیاست کو جرم قرار دے رہی ہے۔ اُن کے ساتھ دیگر کئی رہنماؤں کو بھی اسی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ میر سفیر بلوچ اُن رہنماؤں میں شامل ہیں جو ریاستی جبر سے محفوظ رہنے میں کامیاب ہوئے، لیکن اُن کے سر پر انعام رکھ کر یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ بلوچ سیاسی قیادت کو دنیا کے کسی بھی کونے میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ محض ایک فرد کو دھمکی نہیں بلکہ پوری بلوچ سیاسی قیادت کے خلاف ایک کھلا اعلان ہے۔دنیا کو یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ ماضی میں بھی بلوچ رہنماؤں اور کارکنوں کو بیرونِ ملک نشانہ بنایا گیا، جیسا کہ کینیڈا میں کریمہ بلوچ اور سویڈن میں ساجد حسین بلوچ کے واقعات اس کی مثال ہیں۔ اگر عالمی برادری مسلسل خاموشی اختیار کرتی رہی تو یہ طرزِ عمل نہ صرف بلوچ قوم بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کے سروں کی قیمت مقرر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان میں جمہوریت، سیاسی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔ہم واضح کرتے ہیں کہ قومی سیاسی جدوجہد کو انعامی اشتہارات اور دھمکیوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششیں تاریخ میں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں۔میڈیا میں اعلانیہ طور پر سیاسی رہنماؤں کے سروں کی قیمت مقرر کرنا کھلی جارحیت اور خوف کی سیاست ہے۔ بلوچ قوم کے خلاف یہ خطرناک پیش رفت عالمی خاموشی کے نتائج کو عیاں کرتی ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post