مستونگ: فوجی بسوں اور ان کی سیکورٹی پر حملہ، جھڑپیں 50 اہلکاروں فورسز کی فائرنگ اور ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے 10 شہریوں کی ھلاکت کی اطلاعات


 مستونگ ( نامہ نگار) ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں جمعرات 16 جولائی کو مسلح افراد اور پاکستانی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، پاکستانی فورسز کے ایک قافلے کو مرکزی کوئٹہ-کراچی روٹ پر گرو کے مقام پر نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قافلے میں شامل بسوں میں چھٹی پر جانے والے فوجی اہلکار سوار تھے، جنہیں حملے کا نشانہ بنایا گیا اور 50 کے قریب اہلکار ھلاک متعدد زخمی ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق حملے کے دوران متعدد بسیں اور دیگر گاڑیاں، جن میں بکتر بند گاڑیاں بھی شامل تھیں، متاثر ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق، قافلے میں شامل دس بسوں میں سے متعدد کو نقصان پہنچا، جبکہ چار بسوں اور دیگر گاڑیوں پر براہ راست حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان بسوں میں سوار چھٹی پر جانے والے اہلکاروں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔
مزید اطلاعات کے مطابق، قافلے کو مدد فراہم کرنے کے لیے آنے والی فورسز کی کمک کو بھی مرکزی شاہراہ پر مدینہ ہوٹل کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا، جہاں دو گاڑیوں پر حملے میں نشانہ بنایا  گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں تاحال جاری ہیں اور اب تک 50 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
علاقے میں فورسز کی اضافی نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے، جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی آمد کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
واقعے کے بعد نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ ہسپتال اور اس کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب  سکیورٹی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ  فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا ہے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق مسلح گروہ کی شدید مزاحمت کے باوجود سکیورٹی فورسز نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے 7 مبینہ مسلح افراد  کو ھلاک  کر دیا ، جبکہ وطنِ عزیز کے دفاع کی خاطر لڑتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار کام آئے اور کئی زخمی ہوگئے  ۔
تازی اطلاعات ہیں کہ مستونگ میں  فوجی ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے  حیردیں نوسانی کا جوان سال بیٹا شہید ہوا ہے جبکہ 5 دیگر بگٹیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں ۔

مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں گزشتہ روز فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کے بعد فوج کی گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے تین بگٹی قبیلے کی تین افراد کی شہید اور دو کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جو باغوں میں مزدوری کر رہے تھے شہید ہونے والوں میں ایک کی شناخت بادا نوسانی ولد حیر دین نوسانی بگٹی کے نام سے ہوئی جو اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا حیر دین ضیعف اور آنکھوں سے نابینا ہیں اور دو شہیدوں اور زخمیوں کا تعلق بگٹی کے قبیلے شالوانی ٹکر سے بتایا جارہا ہے.



Post a Comment

Previous Post Next Post