مستونگ کھڈکوچہ میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ، ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ

 


مستونگ ( نامہ نگار) بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر شہید نواب غوث بخش رئیسانی ٹیچنگ ہسپتال مستونگ میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق کھڈکوچہ کے علاقوں کنڈ عمرانی، گرو اور انجیری کے قریب سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بھی عارضی طور پر متاثر ہوئی۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کی ہدایت پر شہید نواب غوث بخش رئیسانی ٹیچنگ ہسپتال کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر حمادالدین کاسی نے ہسپتال میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کو الرٹ رہنے اور اپنی ڈیوٹیوں پر موجود رہنے کی ہدایت جاری کی۔
ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، تاہم انہوں نے جانی نقصان یا آپریشن کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
دوسری جانب مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جھڑپوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکام کی جانب سے بھی کسی قسم کا باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں کشیدگی برقرار تھی اور سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت جاری تھی، جبکہ حکام کی جانب سے صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post