جامشورو ( نامہ نگار ) سندھ کے ضلع جامشورو کے علاقے کوٹری سے دس روز قبل لاپتا ہونے والی چار بچوں کی ماں کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔
مقتولہ کے لواحقین نے پولیس پر کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی ہے۔
واقعے کے پس منظر
پولیس ذرائع اور مقامی افراد کے مطابق، محمد کوسوں گوٹھ کی رہائشی خاتون، جن کی شناخت صبرو زوجہ بابر علی پٹھان کے نام سے ہوئی ہے، گزشتہ دس دنوں سے لاپتا تھیں۔ مقتولہ کا تعلق بنیادی طور پر خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے تھا اور وہ جامشورو میں محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہی تھیں۔
صبرو گھر گھر جا کر کپڑے فروخت کرتی تھیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ معمول کے مطابق کام پر نکلی تھیں لیکن واپس گھر نہیں پہنچیں۔ دس دن کی تلاش کے بعد آج ان کی مسخ شدہ لاش ایک ویران مقام سے ملی ہے۔
ابتدائی تحقیقات اور پوسٹ مارٹم
لاش کی حالت دیکھ کر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خاتون کو بے دردی سے قتل کرنے سے قبل مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ مقتولہ حاملہ تھیں اور ان کے چار چھوٹے بچے ہیں۔
سول اسپتال جامشورو میں لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے تاکہ موت کی حتمی وجہ اور مبینہ زیادتی کے شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاش کئی روز پرانی ہونے کی وجہ سے گل سڑ چکی ہے، جس کے باعث فرانزک رپورٹس کا انتظار کرنا ہوگا۔
ورثا کے الزامات اور قانونی کارروائی میں تاخیر
مقتولہ کے شوہر بابر علی پٹھان اور دیگر ورثا نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اغوا کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے کو دی گئی تھی، لیکن پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ورثا کا الزام ہے کہ:
• پولیس نے دس دن گزرنے کے باوجود تاحال واقعے کا ایف آئی آر (FIR) درج نہیں کی۔
• ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوئی ٹھوس چھاپہ مار کارروائی نہیں کی گئی۔
• مقتولہ کے خاندان کا تعلق ایک غریب اور محنت کش طبقے سے ہونے کی وجہ سے ان کی فریاد سنی نہیں جا رہی۔
انسانی حقوق کی صورتحال اور حکام سے مطالبہ
اندرون سندھ میں خواتین کے خلاف تشدد اور اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سماجی حلقوں اور مقتولہ کے خاندان نے وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ:
1. واقعے کا فوری نوٹس لے کر غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
2. ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
3. متاثرہ خاندان کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔
جامشورو پولیس کا مؤقف ہے کہ وہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد باقاعدہ مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ تاہم، تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
