ہم بلوچ افغانستان کے ساتھ کھڑے ہیں، اور صدیوں سے ایک دوسرے کا دفاع کرتے آ رہے ہیں ۔ حیربیار مری بلوچ



لندن ( نامہ نگار )بلوچ آزادی پسند رہنما اور فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ حیربیار مری بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں لکھا ہے کہ ، پاکستان نے بغیر کسی جواز کے افغانستان پر حملہ کیا ہے ، لیکن جب افغانوں نے جوابی کارروائی کی تو ان سے یہ سوال کیا جانے لگا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں دوسرے مسلمانوں پر حملہ کرنے والے کیسے مسلمان ہو سکتے ہیں ۔ یہ سوال اٹھانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ رمضان کے پانچویں دن، 22 فروری 2026 کو، حملہ خود پاکستان نے افغانستان پر کیا تھا ۔ بعض پاکستانی علما اور سیاست دان یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ افغان مسلمان ہی نہیں ہیں ۔ وہ ایک بنیادی تاریخی حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ پنجاب کو اسلام میں داخل کرنے والے کون تھے۔ اس پر مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ۔


انہوں نے مزید لکھا کہ ،پنجاب، وہ خطہ ہے جس نے گزشتہ آٹھ سو برسوں میں آنے والے ہر حملہ آور کی خدمت کی، ان کا پھولوں سے استقبال کیا اور برصغیر اور جنوبی و وسطی ایشیا میں قوموں کو فتح کرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ آج یہی طبقہ خود کو اسلام کا محافظ قرار دیتا ہے ۔ مگر اسی نام نہاد دیندار پاکستانی پنجابی فوج کے ہاتھوں ہزاروں بلوچ اور پشتون افراد کے ماورائے عدالت قتل کا جواب کون دے گا؟


ان کا مزید کہنا ہے کہ ، افغانستان کے وزیر خارجہ کے بھارت کے سرکاری دورے کے بعد پاکستان کی جانب سے افغانستان کو بھارت کا پراکسی قرار دیا گیا ۔ پاکستانی اشرافیہ کے لیے یہ ایک مختصر سا سفارتی دورہ بھی ناقابل برداشت ثابت ہوا، کیونکہ وہ افغانستان کو اپنی پچھلی جاگیر سمجھتے ہیں اور افغان عوام کے فیصلوں کا حق صرف اپنے پاس رکھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان ایک خودمختار اور آزاد ریاست ہے اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس ملک سے چاہے سفارتی تعلقات قائم کرے ۔ اس کے برعکس، پاکستان گزشتہ آٹھ دہائیوں سے دنیا بھر میں کشکول لیے پھرتا رہا ہے، غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کی خدمت کرتا آیا ہے، اور اس کے باوجود خود کو مسلم دنیا کا واحد محافظ اور کسی کا پراکسی نہ ہونے کا دعویدار بن کر پیش کرتا ہے ۔


سنگ حیربیار مری کا کہنا ہے یہ دعوے ایک ایسے ملک کی جانب سے سامنے آتے ہیں جسے دنیا ایک بین الاقوامی بھکاری کے طور پر جانتی ہے ۔ پاکستان کی سرحدوں کے اندر بھی کوئی عوامی حمایت موجود نہیں ۔ صرف مہاجر اور پاکستانی پنجابی اس برطانوی دور میں قائم کی گئی مصنوعی ریاست سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں ۔


ہم بلوچ افغانستان کے ساتھ کھڑے ہیں، کیونکہ ہم صدیوں سے ہر موسم کے دوست رہے ہیں اور ایک دوسرے کا دفاع کرتے آئے ہیں۔ آج بھی یہی حقیقت برقرار ہے۔ ہم افغان عوام کے خلاف پاکستانی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔



Post a Comment

Previous Post Next Post