پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ طلبہ کی ہراسانی میں اضافہ، سٹوڈنٹس کونسل کا فوری تحقیقات کا مطالبہ

 


شال ( نامہ نگار )
بلوچ سٹوڈنٹس کونسل پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں بلوچ طلبہ کو ان کی شناخت کی بنیاد پر مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک کے مختلف کونوں سے بلوچ طلبہ کو دن بدن لاپتہ کیا جا رہا ہے جبکہ پنجاب یونیورسٹی میں بھی بلوچ طلبہ کو مسلسل ذہنی و تعلیمی پروفائلنگ، ہراسانی اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ یہ رویہ طویل عرصے سے جاری ہے اور اب اس کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔آج 23 فروری 2026 کو ایک بار پھر ہمارے ایک سینئر طالب علم کو منظم انداز میں ہراساں کیا گیا۔ کچھ سول لباس میں ملبوس افراد ان کے ہاسٹل روم میں داخل ہوئے، ان کی ویڈیوز بنائیں اور انہیں دھمکیاں دے کر شدید ذہنی اذیت پہنچائی۔ یہ واقعہ بلوچ طلبہ کے خلاف جاری مہم کا ایک اور واضح ثبوت ہے۔
بلوچ سٹوڈنٹس کونسل پنجاب یونیورسٹی نے پہلے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے کسی بھی رکن کی سلامتی اور وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ ہم پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کے نمائندے بھی شامل ہوں۔ اس کمیٹی کو طلبہ کے خلاف ہونے والی پروفائلنگ، ہراسانی اور امتیازی سلوک کے تمام کیسز کی تحقیقات کرنی چاہییں اور انہیں مستقل طور پر روکنے کے موثر اقدامات اٹھانے چاہییں۔اگر یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا اور مطلوبہ اقدامات فوری طور پر نہ اٹھائے تو بلوچ سٹوڈنٹس کونسل اپنا ایک منظم لائحہ عمل طے کرنے پر غور کرے گی جس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی حکام پر عائد ہو گی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post