شال ( نامہ نگار )
جبری گمشدگیوں کا آغاز دہائیوں قبل بلوچستان میں ہوا جس میں آج کی طرح سینکڑوں ہزاروں مردخواتین لاپتہ کیے گئے ۔ جبکہ آج سے پچاس برس پہلے، 6 فروری 1976ء کو بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطاء اللہ خان مینگل کے فرزند اسداللہ مینگل اور ان کے ساتھی احمد شاہ بلوچ کو کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ نصف صدی گزر جانے کے باوجود آج تک ان کی گمشدگی کا معمہ حل نہ ہو سکا۔ نہ ان کے بارے میں کوئی مستند خبر سامنے آ سکی، نہ ان کی لاشیں ملیں اور نہ ہی قبریں معلوم ہو سکیں۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ریاست نے جبری گمشدگیوں کی پالیسی کا آغاز کیا اور بدقسمتی سے یہ سلسلہ آج بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ اسداللہ مینگل اور احمد شاہ بلوچ کی طرح ہزاروں بلوچ نوجوان جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے جا چکے ہیں، جن کی قسمت آج بھی اندھیروں میں گم ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ زندہ ہیں یا خاموشی سے قتل کر دیے گئے اور ان کے اہلِ خانہ آج بھی امید اور کرب کے درمیان معلق زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
6 فروری محض ایک تاریخ نہیں بلکہ اس حقیقت کا واضح اظہار ہے کہ بلوچ قوم 1976ء سے ریاستی جبر، عسکری تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا براہِ راست شکار رہی ہے۔ 6 فروری ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جبری گمشدگیاں صرف افراد کو نہیں بلکہ پوری قوم کے وجود، اس کی تاریخ اور اس کے اجتماعی شعور کو نشانہ بناتی ہیں۔ جب تک سچ سامنے نہیں آتا جب تک انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، یہ زخم ناسور ہی رہے گا اور یہ سوال ضمیرِ انسانی کا پیچھا کرتا رہے گا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کیا جائے، لاپتہ افراد کا سراغ دیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو سچ اور انصاف فراہم کیا جائے تاکہ تاریخ کا یہ سیاہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو سکے۔
