پنجگور ،تربت قابض فورسز ہاتھوں 3 بھائیوں سمیت 5 افراد حراست بعد جبری لاپتہ،10 گھنٹے بعد ایک کی نعش برآمد

 



پنجگور ( نامہ نگار ) مقبوضہ  بلوچستان کے علاقہ پنجگور اور تربت میں قابض پاکستانی فورسز نے تین بھائیوں سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم جگہ منتقل کر دیا ۔

تفصیلات کے مطابق پنجگور کے علاقے خدابادان میں گزشتہ شب قابض پاکستانی فورسز نے  متعدد گھروں پر چھاپہ مارکر  خواتین اور بچوں کو ہراساں کرکے تشدد کا نشانہ بنایا اور  گھروں میں  توڑ پھوڑ کی ۔اس دوران تین سگے بھائیوں
بختیار ، عرفان ، بلال اور  اویس احمد پسران  یار محمد سمیت حسن ولد خلیل کو حراست میں لیکر تشدد کا نشانہ بنایا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران فائرنگ بھی کی

کی گئی، جس میں جبری لاپتہ اویس احمد زخمی بھی ہوئے۔
اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ فورسز انہیں زخمی حالت میں اپنے ساتھ لے گئے ، تاہم ان کی موجودہ حالت یا مقام کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیئے جارہے ہیں۔



علاوہ ازیں ضلع پنجگور کے علاقے خدابادان سے آج صبح 24 فروری 2026 کو سحری کے وقت تین سگے بھائیوں سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ بعد ازاں چند گھنٹوں بعد ان میں سے ایک لاپتہ شخص کی لاش پنجگور سے برآمد ہوئی۔

لاش کی شناخت اویس احمد ولد محمد یار کے نام سے ہوئی ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق اویس کو آج صبح سحری کے وقت پاکستانی فورسز نے خدابادان سے دیگر چار رشتہ داروں کے ہمراہ حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اویس اپنے چار رشتہ داروں کے ساتھ خدابادان سے لاپتہ ہوا تھا، اور چند گھنٹوں بعد اس کی گولیوں سے چھلنی لاش پنجگور سے برآمد ہوئی۔ خاندان کے دیگر چار افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

علاوہ ازیں  کیچ کے مرکزی شہر تربت کولوائی بازار سے فورسز نے گزشتہ رات دو بجے کے قریب  چھاپہ مارکر گھرسے امداد ولد ابراہیم نامی نوجوان کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ۔
خاندانی ذرائع کے مطابق امداد پیشے کے لحاظ سے دکاندار ہیں اور فدا چوک میں “بلال اسٹیشنری” کے نام سے کتابوں اور اسٹیشنری کا کاروبار کرتے ہیں۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات تقریباً دو بجے فورسز اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post