ڈیرہ غازی خان جامعہ کے چار طلباء سمیت 5 افراد سی ٹی ڈی ہاتھوں جبری لاپتہ ،سیاسی سماجی حلقوں کی مذمت


ڈیرہ غازی خان گزشتہ رات پنجاب پولیس اور بدنام زمانہ کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سی ٹی ڈی نے  ڈیرہ غازیخان کے علاقے ماڈل ٹاون سے ہاسٹل میں رہائش غازی یونیورسٹی کے چار طالبعلموں  امیر بلوچ، سلمان بلوچ، زبیر بلوچ، اور ساکم بلوچ کو جبری   لاپتہ کرکے لے گئے ہیں  جن کے بارے اب تک  لواحقین  کو  معلوم نہیں ہے کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔ 

 دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ جمعہ اور ہفتہ کی رات  تونسہ سے انسانی حقوق کے کارکن ذولفقار ملغانی کو بھی اغوا کرلیا گیا ہے۔ 

بتایا جارہاہے کہ اغوا کیے گئے چاروں  بلوچ طالبعلم غازی یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹس میں زیر تعلیم ہیں۔ 

طلباء نے انکشاف کیا ہے کہ  غازی یونیورسٹی نے دیگر بلوچ طالبعلمون کی ایک لسٹ بنا کر سی ٹی ڈی اور پولیس کو دی گئی ہے تاکہ انہیں بھی اسی طرح اغوا کیا جا سکے۔ 

بلوچ نوجوانوں کے جبری گمشدگیوں بارے  سیاسی سماجی حلقوں اور ڈیرہ غازی خان کے طلباء کا کہنا ہے کہ بلوچ نسل کشی کے خلاف اس وقت بلوچستان میں  لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف جارہی ہے، اور لانگ مارچ ڈیرہ غازیخان  پہنچنے والا  ہے۔ جسے سبوتاج کرنے اور ایک خوف کا ماحول بنانے کےلیے پنجاب پولیس اور دیگر ادارے معصوم طالبعلموں اور پرامن سیاسی کارکنان کے خلاف کریک ڈاون کررہی ہے جو کہ نہایت ہی قابل مذمت عمل ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنا اور اپنے علاقے سے گزرنے والے پرامن کافلے کا استقبال کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔  ڈیرہ غازی یونیورسٹی اس پورے عمل میں برابر شریک  ہے۔ 

طلباء نے مطالبہ کیا ہے کہ جبری طور پر لاپتہ کیے گئے چاروں طالبعلموں اور زولفقار ملغانی کو فورا رہا کیا جائے اور دوسرے طالبعلموں کو ہراسمنٹ کا نشانہ بنانا، دھمکیاں دینا ، لسٹیں جاری کرنا بند کیا جائے۔ بصورت دیگر غازی یونیورسٹی سمیت پورے ڈیرہ غازیخان میں بلوچ طالبعلموں کی جبری گمشدگی اور ہراسمنٹ کے خلاف پرامن احتجاج کا حق  محفوظ رکھتے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post