شال ( اسٹاف رپورٹر سے ) بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا
زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں دھرنے کو آج ایک مہینہ مکمل ہو گیا۔
مطالبات کی عدم منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان اور آئندہ سخت سے سخت لائحہ پر عمل پیرا ہونے کا عندیہ لواحقین نے دے دی ۔
دھرنے میں جمعہ کے روز معروف قانون دان ایڈووکیٹ علی احمد کرد سمیت نیشنل پارٹی بلوچستان کے رہنماؤں نے دھرنے میں آ کر لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم جبری گمشدگیوں کے سخت خلاف ہیں، ہماری جدوجہد کا محور ہے کہ ملک میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، تمام جبری لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے اور بلوچ نسل کشی بند کی جائے -
اس موقع پر وی بی ایم پی کے جنرل سیکرٹری سمی دین بلوچ نے دھرنے کا دورہ کرنے اور اظہارِ یکجہتی کرنے پر تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم اپنے جائز آئینی مطالبات کی منظوری کیلئے یہاں پچھلے ایک مہینے سے بیٹھی ہوئی ہیں، لیکن حکام ہماری احتجاج کو اب تک سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ حکام علاوہ افسوس کا مقام ہے کہ ملکی خبر رساں اور انسانی حقوق کے اداروں کے نمائندوں کے نظروں سے بھی ایک ماہ سے جاری دھرنا اوجھل ہے ۔ جو ہمیں نظرانداز کرتے آ رہے ہیں -
