تازہ ترین ۔کوئٹہ میں بم دھماکہ ہواہے ۔ وڈھ, سب تحصیل آڑنجی میں،سیلاب ، زندگی معمول سے کٹ کر رہ گئی ہے ، مسائل حل نہ ہوئے تو سخت احتجاج کریں گے ۔ پریس کانفرنس 

خضدار ،وڈھ ( اسٹاف رپورٹرز سے )سب آڑینجی کے مختلف یونینز کے اکثریتی نومنتخب کونسلراں و  آڑنجی کے ممتاز قبائلی رہنماؤں و بلوچستان نیشنل پارٹی کے عہداروں نے  وڈھ پریس کلب میں پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے آڑینجی اور ان کے متصل علاقوں کراڑو کانڈارو سمیت دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچاہی ہوئی ہے۔  انھوں نے مطالبہ کیاہے کہ بلوچستان حکومت فوری طور پر اب تحصیل آڑینجی کو آفت زدہ قرار دیکر لوگوں کے لیے ریلف آپرشن شروع کریں ۔ انھوں نے کہاکہ اس وقت 70 ہزار سے زائد سب آڑینجی کے آبادی کے %80 لوگ تباہ کن بارشوں سے شدید متاثرہیں شدید بارشوں 1500 سے زائد مکانات گرگئے ہیں۔ متاثرین کھولے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مختلف علاقوں میں مکانات کے گرنے سے خواتین بچوں سمیت 7 افراد جان بحق جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ تباکن بارشوں سے  رہ جانے والے مکانات رہائش کے قابل نہیں ایک ماہ گزرنے کے باوجود آڑینجی کے تمام رابطہ سڑکیں بند ہے۔ راستہ بند ہونے کی وجہ سے خضدار وڈھ بیلہ تک لوگوں کو سفر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ سڑکوں کے بند ہونے کی وجہ پورے علاقے میں خوراک اور ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہیں۔  سیلاب سے متاثرہ افراد نے کہا کہ بارشوں سے زرعی بندات کھڑی فصلیں زرعی مشینری طوفانی ریلوں کی نظر ہوگئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں گیسٹرو، ڈائریا کی بیماری پھیلنے سے کئی افراد متاثر ہیں لیکن انتظامیہ اور محکمہ صحت کی خاموشی کسی بڑے سانحے کو جنم دیگی۔ سیلابی ریلوں میں مالداروں کے سینکڑوں مال موشیاں ریلوں بہے گئے ہیں اور ہزاروں مال مویشی بیمار ہوچکے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ متاثرہ  لوگوں کو ریلف فراہمی کےلئے آنیوالے پرائیوٹ این جی اوز کو لوگوں کی  امداد سے روک رہی ہے اور انتظامیہ کا  موقف ہیکہ   آڑینجی میں اتنا نقصان نہیں جتنا واویلا مچایا جارہا ہے،اس بیان میں حقیقت جو روندا گیاہے مزمت کرتے ہیں۔   ہم انتظامیہ اور دیگر حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متاثرہ علاقوں کے لیے خود جاکر سروے کریں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو۔  پریس کانفرنس میں رہنماوں نے بلوچستان حکومت اور مقامی انتظامیہ کے اقدامات کو ناکافی قرار دیا ۔ انہوں صوبائی وفاقی حکومتوں کے اداروں این ڈی ایم اے پی ڈی ایم اے اور فلاحی تنظیموں سے اپیل کہ انسانیت کے بیناد پر ان کے علاقوں امداد کاروائی شروع کرے۔ حکومت  آڑینجی سمیت دیگر علاقوں کو آفت زدہ قرار دیکر آڑینجی اور ان کے متصل علاقوں میں متاثرین کو ٹینٹس خوراک پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ  زمینداروں کے نقصانات کا ازالہ زرعی بندات کےلیے ڈوزرز گھنٹوں کی منظوری اور ان کے رابطہ سڑکوں کو فوری بحال کیا جائے۔  پریس کانفرنس دوران کونسلراں نے کمشنر قلات ڈویژن سے اپیل کہ وڈھ اسسٹنٹ آفس میں وڈھ کے تمام یونین سیکٹریز  زراعت آفس کے آفیسران کو وڈھ میں بیٹھنے کا پابند کریں۔  کہ ان سیلاب متاثرین کے  نقصانات کے لیے آنیوالے فارمز کی فوری تصدیق جبکہ فارم میں کھتونی کی شرط ختم کرکے ان کے مشکلات کو حل کیا جائے۔  پریس کانفرنس میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ  لوگوں کے اموات کے واقعات  سامنے آنے کے باوجود سرکار کی طرف انکی داد رسی نہیں ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کہ اگر حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ ان کے متاثرہ علاقوں ریلف آپرشن شروع نہیں کرتی  تو وہ متاثرین کے ساتھ ملکر شدید احتجاجی راستے کو اپنائیں گے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post