شال ( اسٹاف رپورٹر سے ) شال جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنے کو بائیس دن مکمل ہو گئے -
دھرنے میں جمعرات کے دن نیشنل پارٹی کے مرکزی ریسرچ سیکرٹری آغاگل، بلوچستان کے جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ، ترجمان علی احمد لانگو نے آکر لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی -
دھرنے میں بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے لواحقین کی کثیر تعداد موجود ہیں، کراچی سے جبری لاپتہ عبدالحمید زھری کی بیٹی سعیدہ بلوچ ، حب چوکی سے جبری لاپتہ سفر بلوچ کے کزن شائستہ بلوچ دھرنے میں شریک رہے -
اس موقع پر انھوں نے کہاکہ
دھرنے کے شرکا لواحقین انصاف کے منتظر ہیں، جن کے سادہ سے مطالبات ہیں کہ ان کو سنجیدگی سے سنا جائے اور انہیں انکے لاپتہ پیاروں کی زندگیوں کے بارے میں تسلی دی جائے -
واضح رہے کہ احتجاجی دھرنے کو آج بائیس دن مکمل ہوئے ہیں لیکن اب تک انکے مطالبات کی منظوری میں کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی ہے ۔
جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے مطابق ان کا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک انہیں سے نا سنا جائے گا، اور یہ یقین دہانی نا کرائی جائے کہ انکے پیاروں کو جعلی مقابلوں میں قتل نہیں کیا جائے گا -
آپ کو علم ہے لاپتہ افراد کے لواحقین نے آج بی ایم سی مین گیٹ کے سامنے ہونے والے ریلی میں شرکت کیلئے آج کوئٹہ کے تعلیمی اداروں اور مختلف مقامات پر پمفلٹ تقسیم کی اور لوگوں کو اپیل کی ہے کہ وہ کل ہونے والے ریلی میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں -
۔
