زہری پاکستانی فوج پر حملہ، مسلح جھڑپوں میں ہلاکتیں کی اطلاعات ،خاران شاہراہ پر مسلح افراد کی ناکہ بندی جاری

 


کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں پاکستانی فوج کو مسلح حملوں میں جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

زہری کے علاقے بلبل میں گذشتہ مسلح افراد نے مختلف مقامات پر پاکستانی فوج کو اس وقت حملوں میں نشانہ بنایا جب فوج بکتر بند گاڑیوں، ٹینک اور دیگر گاڑیوں میں علاقے میں پیش قدمی کررہی تھی۔
علاقائی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز صبح اور شام کے وقت گھنٹوں تک شدید نوعیت کی جھڑپیں جاری رہی۔ اس دوران علاقہ مکین گھروں میں محصور رہے جبکہ علاقہ فائرنگ اور دھماکوں سے گونجتا رہا۔
جھڑپوں میں جانی نقصانات کی اطلاعات ہیں تاہم حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہے ۔
دوسری جانب خاران شہر کے قریب باب خاران کے مقام پر مسلح افراد نے شاہراہ پر چیک پوائنٹس قائم کرکے آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی کا عمل جاری رکھا۔ مذکورہ شاہراہ خاران کو نوشکی و کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں کو ملاتی ہے۔
خاران میں رواں ہفتے اس سے قبل ساراوان، نوروز قلات اور زاروزئی کے مقامات کو مسلح افراد کی بھاری تعداد نے کنٹرول میں لیا تھا جو دو روز تک جاری رہا۔
اس دوران پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپیں بھی ہوئی تھی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post