تربت ( اسٹاف رپورٹر) تمپ واقعہ میں ایف سی کا نام لینے والوں کے خلاف ڈپٹی کمشنر کیچ نےکارروائی کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔
انھوں نے کہاہے کہ تمپ میں مکان پر ( ایف سی کی جانب سے )مارٹر پھینکنے کے واقعہ کے بعد جو کوئی ایف سی کو اس کا زمہ دار بنائے یا بتائے اس کے خلاف سخت اقدام اٹھائے جائیں گے ۔
ہمارے اسٹاف رپورٹر مطابق
ضلع کیچ کے فوجی ڈپٹی کمشنر بشیر احمد بڑیچ نے کل رات سے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے ایسے تمام شھریوں کو وارن کیا ہے جو تمپ میں گزشتہ شب ایف سی کی مارٹر گولہ سے زخمی ہونے والے افراد کا الزام ایف سی پر لگائیں ۔
ڈپٹی کمشنر کیچ جن کا تعلق پاکستان آرمی سے ہے نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس واقعہ میں کسی نے ایف سی کا نام لیا تو ان کو گرفتار کیا جائے گا یا سخت سزا دی جائے گی۔
علاقائی باوثوق زرائع کے مطابق واقعہ کے بعد جب سماجی کارکنان نے آواز اٹھائی تو ڈپٹی کمشنر کیچ نے متاثرہ خاندان کے ایک رشتہ دار کو اپنے آفس میں طلب کرکے انہیں دھمکی دی اور ایف سی کے حق میں زبردستی ان سے بیان ریکارڈ کرایا جسے بعد ازاں سوشل میڈیا پر ڈال دیا ، جس میں ایک پیرانہ سال شخص ڈی سی کیچ کی آفس کے احاطے میں کھڑے ایف سی اور اس کی ایک کرنل کی تعریف کررہے ہیں۔
تاہم فوجی ڈپٹی کمشنر کی احکامات کے برخلاف آج تربت میں سول سوسائٹی کی طرف سے تمپ واقعہ کے خلاف ریلی نکالی گئی جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی ریلی میں خواتین بھی شامل تھیں ۔ جبکہ سول سوسائٹی کے علاوہ حق دو تحریک کے رہنما بھی ریلی میں شریک تھے ، اور انہوں نے تمپ واقعہ کا زمہ دار ایف سی کو قرار دے کر اس کی مذمت کی۔
آپ کو علم ہے نام نہاد قوم پرست فوجی ڈی سی کے حکم کی تعمیل یا خوف سے ریلی میں شرکت کی نہیں انھوں نے اب تک ایف سی کے مارٹر گولے داغنے کی مذمت کی ہے ۔
