کوئٹہ ( اسٹاف رپورٹر سے ) وائس فار بلوچ مسئنگ پرسنز کے بازیابی کیلئے لگائے گئے کیمپ کو 4701 دن ہوا ۔
ہفتہ کے دن کیمپ میں اظہار یکجہتی کیلئے بھاگ ناڑی سے سیاسی اور سماجی کارکنان آفتاب احمد، اویس مستوئی، دلدار اور ارسلان بلوچ آئے تھے، جنھوں نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلے پہنچے تھے ۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اظہار یکجہتی کرنے والے افراد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ، ریاستی خفیہ ادارے، فورسز ایف سی اور سی ٹی ڈی بلوچوں کے جبری گمشدگیوں میں براہ راست ملوث ہیں، اور اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، جو پوری دنیا کو معلوم ہے، مگر ریاست اپنے متعلقہ اداروں کو بچانے کیلئے طرح طرح کے حربے آزما رہے ہیں۔
انھوں نے کہاکہ پارلیمانی کمیٹیز برائے نام تشکیل دیئے جاتے ہیں جن کے قیام کا مقصد ان اداروں کو بری الذمہ ثابت کرنا اور سچائیوں کو چھپانے اور ٹالنے کیلئے ہوتا ہے.
ماما نے کہا کہ کچھ نام نہاد قوم پرست جماعتیں بلوچ شہداء اور جبری گمشدگیوں کا سیاسی کارڈ کھیل کر اپنے پارلیمنٹ جانے کا رستہ ہموار کرتے چلے آرہے ہیں اور شہداء کے خون کا سودا لگا کر ان کو سیڑھی کے طور پر استعمال کرکے سالوں سے مراعات بٹورتے آ رہے ہیں، جنکے کردار سے بلوچ قوم بخوبی واقف ہیں، ایسے لوگ وطن اور قوم کے کبھی بھی خیرخواہ نہیں ہوں گے۔
انھوں نے کہاکہ ہم نے عید کے دن لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ احتجاجی ریلی نکال کر مظاہرہ کرکے دنیا کے سامنے بلوچستان میں ہونے والے جبر کا اصل چہرہ سامنے لانے کی کوشش کی تاکہ دنیا دیکھ لے کہ بلوچ عید کی خوشیوں میں بھی سڑکوں پر اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے نکلے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ اور اقوام عالم خواب خرگوش سے جاگ اٹھیں اور ایک دن ان انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کاغذی اور لفاظی عمل سے دو قدم آگے بڑھیں اور پاکستانی ریاست کی جواب طلبی کریں۔
ماما نے ریاستی جبر کے باوجود ہم نے اپنا طویل پر امن جدوجہد جاری رکھا ہوا ہے -
