سوراب ( نامہ نگار) سوراب شہر اور گردونواح میں بدامنی کی لہر بدستور برقرار ہے، چند روز کے دوران چوری اور ڈکیتی کی متعدد وارداتوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث اب شہری اپنے ہی گھروں کی چار دیواری میں خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں،تازہ اطلاعات کے مطابق سوراب کے علاقے کلی سرخ میں حاجی مولا بخش میروانی کے گھر مبینہ ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جہاں نامعلوم افراد کی جانب سے گھر میں داخل ہو کر خواتین کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے، انہیں ایک کمرے میں بند کرنے اور بھاری مقدار میں سونا چوری کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،واقعے کی مزید تفصیلات اور پولیس کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے،دوسری جانب گزشتہ روز مبینہ طور پر لوٹے گئے ایک دکان پر بھی چوروں کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے،شہریوں کا کہنا ہے کہ سوراب میں مسلسل پیش آنے والے چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم کے واقعات نے امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں،عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور حالیہ واقعات میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
