قرآن پر یقین دہانی، خاندان کو دھوکا، دینارزی مینگل خاندان کا المیہ

 


وڈھ ( نامہ نگار)

شاہ نورانی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گل محمد دینارزئی مینگل اور محمد دونوں کو چند ماہ قبل اغوا کیے جانے کے بعد ان کے خاندان کو مسلسل دباؤ اور حراست کے ذریعے کریم دینارزی نصیر دینارزی مینگل کو سردار اختر مینگل کے پاس لانے پر مجبور کیا گیا۔ خاندان کو قرآن پر یقین دہانی دی گئی کہ کریم اور نصیر احمد کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق سردار اختر مینگل کے پاس پہنچنے کے بعد کریم اور نصیر احمد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق، گل محمد دینارزئی مینگل کے 18 سالہ بیٹے کو بھی بعد ازاں حراست میں لے لیا گیا اور اسے اپنے بھائی کریم دینارزئی کو بلانے کے لیے دباؤ میں رکھا گیا۔ کریم دینارزئی اور نصیر ولد محمد دینارزئی مینگل میر جاوید مینگل کے ساتھ وابستہ رہے ہیں اور سردار اختر مینگل کے پاس جانے سے انکار کرتے رہے تھے۔
کریم کے چھوٹے بھائی کی حراست کے بعد ان کی والدہ اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے قرآن لے کر سردار اختر مینگل کے پاس گئیں۔ ذرائع کے مطابق انہیں قرآن پر یقین دہانی کرائی گئی کہ اگر کریم اور نصیر احمد ان کے پاس آ جائیں تو انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد والدہ نے کریم اور نصیر کو سردار اختر مینگل کے پاس جانے پر مجبور کیا۔
کریم و نصیر کے وہاں پہنچنے کے بعد گل محمد دینارزئی مینگل اور محمد دونوں کو وڈھ کوٹ سے رہا کر دیا گیا تاہم کریم و نصیر کو رہا نہیں کیا گیا۔ مقامی افراد کے مطابق وہ تاحال حراست میں ہیں اور انہیں دورانِ حراست اختر مینگل نے خود اپنے ہاتھوں سے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں اپنے امن فورس کے سپاہیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ ان پر تشدد کرتے رہو جو ابھی تک جاری ہے۔
جبری گمشدگیاں اور دورانِ حراست تشدد وہ اقدامات ہیں جن کے خلاف سردار اختر مینگل طویل عرصے سے اپنی سیاسی جدوجہد میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ تاہم شاہ نورانی میں سامنے آنے والی یہ اطلاعات ایک سنگین تضاد کی نشاندہی کرتی ہیں. جن جبری اقدامات اور تشدد کے خلاف وہ سیاسی طور پر آواز اٹھاتے رہے، انہی اقدامات میں اب ان کا نام خود سامنے آ رہا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post