بلوچستان سے کراچی سفر بھی عذاب بن گیا، یوسف گوٹھ میں مبینہ پولیس ہراسانی اور لوٹ مار سے مسافر پریشان، بلوچ قائدین اور سندھ حکومت سے کراچی پولیس کے خلاف سخت نوٹس لینے کی اپیل۔

 


خضدار( نامہ نگار) خضدار سمیت بلوچستان سے کراچی جانے والے مسافروں نے کراچی پولیس کی جانب سے یوسف گوٹھ کے مقام پر مبینہ ہراسانی، تلاشی کے نام پر رقم لینے اور غیر مناسب رویے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت اور بلوچ قائدین سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

متاثرہ مسافروں کے مطابق خضدار سے کراچی جانے والی مسافر کوچز کو یوسف گوٹھ کے مقام پر روک کر پولیس اہلکار تلاشی کے نام پر مسافروں کو مبینہ طور پر ہراساں کرتے ہیں مسافروں کا الزام ہے کہ بعض اہلکار قانون کے تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے خود مسافروں کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر نقدی نکالتے ہیں، جس سے مسافروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ ذاتی تلاشی کے دوران قانون اور ضابطے کے مطابق شہری کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جانا چاہیے، تاہم یوسف گوٹھ میں مبینہ طور پر اس کے برعکس رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ مسافروں کے مطابق بعض اہلکاروں کو جب شہری اپنی جیبیں خود خالی کرنے کی پیشکش کرتے ہیں تو مبینہ طور پر انہیں منشیات کے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

مسافروں نے الزام عائد کیا کہ یوسف گوٹھ میں تعینات بعض پولیس اہلکار محافظ کم اور مسافروں کے لیے خوف و ہراس کا باعث زیادہ بن گئے ہیں، جس کے باعث بلوچستان سے کراچی سفر کرنے والے شہری خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔

عوامی حلقوں اور مسافروں نے سندھ حکومت، کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام اور بلوچ سیاسی و سماجی قائدین سے مطالبہ کیا ہے کہ یوسف گوٹھ میں مسافروں کو مبینہ ہراساں کرنے اور تلاشی کے نام پر رقم لینے کی شکایات کا فوری نوٹس لیا جائے، غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post